ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان متوقع ملاقات کے حوالے سے غیریقینی صورتحال برقرار

ہفتہ 14 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی متوقع ملاقات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ان کے دوسرے دور میں چین کا پہلا سفر ہے، جس کا مقصد پچھلے اکتوبر میں جنوبی کوریا میں دونوں رہنماؤں کے ہاتھ ملانے کے بعد طے شدہ تجارتی جنگ کے معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ‘اے آئی ایکشن پلان’ کا اعلان، کیا امریکا چین کی مصنوعی ذہانت میں ترقی سے خوفزدہ ہے؟

چین جو عام طور پر اس طرح کے دوروں کو انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیتا ہے تاکہ کسی قسم کی شرمندگی سے بچا جا سکے، ٹرمپ کے آزادانہ طرز عمل کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق چینی حکام اس اجلاس کے لیے زیادہ سنجیدہ اور مفصل تیاریوں کی توقع رکھتے تھے، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ملاقات کی تیاریاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور بیجنگ کے ساتھ باقاعدہ رابطے ہو رہے ہیں۔

کاروباری حلقے تشویش میں ہیں کہ ابھی تک امریکی وفد میں شامل ہونے کے دعوت نامے جاری نہیں ہوئے، جس سے اجلاس کے ممکنہ اقتصادی نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔

اقتصادی اور تجارتی امور

صدر ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان ملاقات سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ اس ہفتے پیرس میں چینی نائب وزیراعظم سے ملاقات کریں گے تاکہ سربراہان کے اجلاس میں اعلان کیے جانے والے اقتصادی اقدامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا نے حال ہی میں مختلف ممالک بشمول چین کے خلاف تجارتی جنگ کا آغاز کیا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں بھونچال آیا ہے۔

تائیوان اور دیگر سلامتی کے مسائل

تائیوان کا معاملہ بھی ایک تشویش کا باعث ہے، جہاں بعض امریکی اہلکاروں کا خیال ہے کہ صدر شی 2027 میں جزیرہ پر حملے کا ارادہ رکھ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ آیا تائیوان کو مزید ہتھیار فراہم کیے جائیں یا نہیں، حالانکہ چینی صدر نے خبردار کیا تھا کہ اس اقدام سے مسائل پیدا ہوں گے۔

ایران جنگ کا اثر

تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ ایران جنگ ہے، جو اگر اپریل تک جاری رہی تو اجلاس کا مرکزی موضوع بن سکتی ہے۔ چین نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے، لیکن ایران کی براہِ راست حمایت یا واشنگٹن کے ساتھ ٹکراؤ سے گریز کیا ہے۔

چین کی حکمت عملی

ماہرین کے مطابق چین اس اجلاس میں کسی ثالثی کردار سے گریز کرے گا اور صدر شی ممکنہ طور پر اجلاس کو اپنی ریاستی استحکام کی تصویر اجاگر کرنے کے لیے استعمال کریں گے، جبکہ ایران کے معاملے پر زیادہ توجہ نہیں دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ’امریکا ایران کے ہاتھوں شکست کھا جائیگا‘، دنیا بھر میں چینی پروفیسر کی پیشگوئی کی گونج

سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے مطابق چینی حکام کسی بھی عوامی جھگڑے یا اختلاف کو اجاگر کیے بغیر اجلاس کو پرامن انداز میں مکمل کرنے کی کوشش کریں گے، تاکہ ٹرمپ کے غیر متوقع رویے کے اثرات کم ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ