روسی ماہر آبادیات ناتالیا موسکوویتینا نے کہا ہے کہ حکومت کو شادیوں کو بچانے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں، نہ کہ طلاق کے عمل کو آسان بنانے کے لیے۔ ان کے مطابق آن لائن طلاق جیسے سہل طریقے شادیوں اور خاندانی استحکام کے لیے خطرہ ہیں، اور ریاست کو ایسے جوڑوں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ خاندان قائم رہیں اور نسل بڑھائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:رجب بٹ کا اہلیہ کو طلاق دینے کے بعد نیا بیان، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا
روس میں شہری اب حکومت کی آن لائن سروس پلیٹ فارم Gosuslugi کے ذریعے طلاق حاصل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ جوڑے کے ہاں نابالغ بچے نہ ہوں اور دونوں فریق متفق ہوں۔ تاہم ناتالیا موسکوویتینا، جو عوامی مجلس کی آبادیاتی کمیٹی کی نائب سربراہ ہیں، کہتی ہیں کہ طلاق کے عمل کو اتنا آسان بنانا بالکل غلط ہے۔
موسکوویتینا نے تجویز دی کہ اس پلیٹ فارم کو ایسے افراد کے لیے استعمال کیا جائے جو شادی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تاکہ انہیں ماہر نفسیات، ثالث یا وکیل سے فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدد چند گھنٹوں میں فراہم کی جائے تاکہ جوڑے اپنے تعلقات کو سنوار سکیں۔

روسی قانون ساز ویتالے میلونوو نے بھی موسکوویتینا کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بحران کے وقت تعلقات کو تباہ کرنے کے بجائے انہیں درست کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کے مطابق اکثر معاملات میں لوگوں کو صرف مدد فراہم کرنا کافی ہوتا ہے، نہ کہ فوری طلاق کی ترغیب دینا۔
یہ بھی پڑھیں:شادی سے پہلے ہی طلاق؟ ہانیہ عامر کا نجومی کی پیشگوئی پر دلچسپ تبصرہ
روس کی ریاستی شماریاتی ایجنسی Rosstat کے مطابق، ملک میں پیدائش کی شرح کم ہوتی جا رہی ہے اور 2046 تک آبادی 146 ملین سے کم ہو کر 138 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچوں والے خاندانوں میں طلاق کے کیسز پچھلے دو سال میں 30 فیصد کم ہوئے ہیں، جبکہ 2025 کے پہلے نصف سال میں 163,000 جوڑوں نے شادی ختم کرنے کی درخواست دی، جو 2023 کے اسی عرصے میں 204,000 تھی۔














