برطانیہ میں مقیم برطانوی پاکستانی بائیکر گلیافشان طارق نے موٹر سائیکل پر لندن سے لاہور تک سفر کا آغاز کر کے ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وہ اس طویل سفر پر نکلنے والی پہلی خاتون بائیکر بننے جا رہی ہیں۔
گلی افشان طارق، جو اپنے شوہر اور 3 سالہ بیٹی کے ساتھ مانچسٹر میں رہتی ہیں، نے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس سفر کا مقصد پاکستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور یہ پیغام دینا ہے کہ عزم اور حوصلے کے ساتھ خواتین ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد ہائی ویز پر ون ویلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 بائیکرز گرفتار
پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی گلی افشان طارق پیشے کے اعتبار سے سافٹ ویئر انجینئر اور مارکیٹنگ ایگزیکٹو ہیں جبکہ شوق کے طور پر بائیکنگ کرتی ہیں۔ ان کی شادی خیبر پختونخوا کے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والے خاندان میں ہوئی ہے۔
24 سال کی عمر میں گلی افشان طارق نے ایک منفرد کارنامہ انجام دیتے ہوئے نیشنل بک آف ریکارڈز میں جگہ بنائی۔ وہ موٹر سائیکل پر اکیلے سفر کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کا دورہ کرنے والی واحد خاتون بن گئیں۔ اس دوران انہوں نے 20 دن میں تقریباً 3000 کلومیٹر کا سفر طے کیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے 2017 میں اپر چترال کے قاقلشٹ میدان میں 7800 فٹ کی بلندی سے سولو پیراگلائیڈنگ فلائٹ بھی کامیابی سے مکمل کی۔
یہ بھی پڑھیے: دنیا کے سفر پر گامزن آسٹریلوی بائیکر گلگت بلتستان کی مہمان نوازی کے معترف
ان کے موجودہ سفر کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ لندن سے فرانس، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی سے گزرتے ہوئے یونان پہنچیں گی، وہاں سے ترکی کے شہر استنبول جائیں گی۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق وہ ایران کے راستے پاکستان پہنچنا چاہتی تھیں، تاہم خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث متبادل راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
گلی افشان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد خواتین کو یہ پیغام دینا ہے کہ اگر حوصلہ اور عزم موجود ہو تو کوئی بھی خواب حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔














