بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک شاپنگ مال میں رات گئے توڑ پھوڑ کی گئی، جب یہ افواہ پھیل گئی کہ ایک رکشہ ڈرائیور کو مال کے اندر تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس افواہ کے بعد مشتعل ہجوم اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
یہ واقعہ ڈھاکہ کے علاقے اترہ میں واقع اترہ اسکوائر نامی شاپنگ کمپلیکس میں پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں نوجوان کانٹینٹ کریئیٹر قتل
ایک گروہ نے عمارت پر حملہ کیا اور گراؤنڈ فلور پر موجود متعدد دکانوں کو نقصان پہنچایا، مظاہرین نے مال کے سامنے سڑک بھی بند کر دی جس سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔
پولیس کے مطابق اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس کے دوران وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوئیں۔
صورتِ حال کو قابو میں لانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ساؤنڈ گرینیڈ بھی فائر کیے۔

حکام کے مطابق تقریباً صبح 4 بجے کے قریب حالات قابو میں آ گئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ تصادم کے دوران کم از کم 3 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
اس واقعے کے سلسلے میں 12 افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق تشدد اس وقت شروع ہوا جب مال کے ایک سیکیورٹی گارڈ اور رکشہ ڈرائیور کے درمیان جھگڑا ہوا۔
بعد ازاں یہ افواہ پھیل گئی کہ رکشہ ڈرائیور ہلاک ہو گیا ہے، جس کے بعد دیگر رکشہ اور آٹو رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ مقامی لوگ جمع ہو گئے اور عمارت پر حملہ کر دیا۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں کسی شخص کی ہلاکت یا سنگین زخمی ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
مزید پڑھیں: ڈھاکہ کے سفارتی علاقے میں سیکیورٹی سخت، امریکی سفارتخانے کے اطراف اضافی نفری تعینات
عینی شاہدین کے مطابق عید سے قبل خریداری کے باعث مال میں لوگوں کا بہت رش تھا، اور مذکورہ افواہ پھیلتے ہی خوف و ہراس پھیل گیا۔
مال کے پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ گاہک مرکزی دروازہ متاثر ہونے کے باعث عقبی راستے سے باہر نکل جائیں۔
حملے کے دوران گراؤنڈ فلور کی کئی دکانوں کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد مال انتظامیہ نے واقعے کے اگلے دن تمام دکانیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔














