وی ایکسکلوسیو: نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ ہوئے تو فیصلوں کا شکار ہو جائیں گے، خرم دستگیر

منگل 17 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ دنیا میں گزشتہ ایک ماہ کے واقعات نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور اب عالمی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ ہوئے تو فیصلوں کا شکار ہو جائیں گے۔

وی نیوز کے پروگرام وی نیوز ایکسکلوسیو میں اینکر پرسن عمار مسعود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دراصل دنیا ایک مہینے میں نہیں بدلی بلکہ ایسے رجحانات پہلے سے موجود تھے جو اب واضح ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: دنیا میں نئی صف بندی کی ضرورت، چینی قوم کی نشاۃ ثانیہ کو روکا نہیں جاسکتا، چینی صدر شی جن پنگ

ان کے مطابق دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جو عالمی نظام تشکیل دیا تھا، اس کا مقصد یہ تھا کہ بڑی جنگوں کو روکا جائے اور عالمی سیاست، تجارت اور بین الاقوامی قوانین کے ذریعے دنیا کو منظم کیا جائے۔

خرم دستگیر خان کے مطابق اسی پس منظر میں اقوام متحدہ جیسے ادارے وجود میں آئے اور عالمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے مختلف نظام تشکیل دیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرد جنگ کے دوران امریکا اور سوویت یونین کے درمیان نظریاتی اور فکری مقابلہ بھی جاری رہا۔

انہوں نے کہاکہ اس دور میں جمہوریت، انسانی حقوق اور سرمایہ دارانہ نظام کو کامیابی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اگرچہ امریکا نے کئی مواقع پر خود بھی اس نظام کی خلاف ورزی کی، جیسے کوریا، ویتنام، کمبوڈیا، عراق اور افغانستان کی جنگیں، لیکن اس کے باوجود ایک عالمی نظام موجود تھا جس کے تحت یہ اصول تسلیم کیا جاتا تھا کہ کسی ملک کی سرحدوں کو جنگ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جائےگا۔

خرم دستگیر خان کے مطابق حالیہ ایران جنگ نے اس عالمی نظام کو قریباً ختم کردیا ہے۔ ان کے بقول اب بین الاقوامی قانون کی حیثیت کمزور ہو چکی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا پہلی جنگِ عظیم سے پہلے والے دور کی طرف لوٹ رہی ہے جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی سے فیصلے کرتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ امریکا کی عالمی طاقت کے طور پر برتری میں بتدریج کمی آ رہی ہے، تاہم اس عمل میں وقت لگے گا کیونکہ امریکا کے پاس اب بھی ٹیکنالوجی، تعلیمی اداروں اور تحقیق کا مضبوط نظام موجود ہے۔

مزید پڑھیں: مارچ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات دستیاب ہیں، وزیر خزانہ نے نوید سنا دی

خرم دستگیر خان نے کہاکہ اس کے مقابلے میں چین تیزی سے ابھر رہا ہے اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں امریکا کے قریب پہنچ چکا ہے۔

ان کے مطابق چین نے تحقیق اور نئی ٹیکنالوجی میں بہت سرمایہ کاری کی ہے اور الیکٹرک گاڑیوں جیسے شعبوں میں دنیا کی بڑی کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی چین تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کم قیمت ٹیکنالوجی کے ذریعے عالمی مقابلے میں نمایاں ہو رہا ہے۔

چین امریکا کے برعکس اپنی طاقت کو عالمی سطح پر فوجی انداز میں ظاہر نہیں کرنا چاہتا

ان کا کہنا تھا کہ چین امریکا کے برعکس اپنی طاقت کو عالمی سطح پر فوجی انداز میں ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ چین دنیا بھر میں فوجی اڈے قائم کرنے یا طیارہ بردار بیڑوں کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی پالیسی پر عمل نہیں کررہا، حالانکہ اس کے پاس اس کی صلاحیت موجود ہے۔

خرم دستگیر خان نے پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کا ایٹمی دفاعی نظام ہے جو کئی دہائیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ایٹمی نظام نے ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت بھی ایک بڑی طاقت ہے، تاہم ملک کی سب سے بڑی کمزوری معیشت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے عالمی سطح پر آنے والی معاشی تبدیلیوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا اور اندرونی سیاسی کشمکش کی وجہ سے ترقی کے کئی مواقع ضائع ہو گئے۔

خرم دستگیر خان نے کہاکہ جغرافیائی طور پر پاکستان کی پوزیشن اہم ہونے کے باوجود بعض اوقات یہ ایک چیلنج بھی بن جاتی ہے کیونکہ بڑی طاقتوں کے مفادات اس خطے میں ٹکراتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد خلیجی ممالک کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کے لیے صرف امریکا پر انحصار نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے اسی تناظر میں پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔

پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ خطے میں سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کرے

خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ خطے میں سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کرے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ملک کو دہشتگردی اور معاشی مسائل جیسے اندرونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق پاکستان اس مقصد کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کررہا ہے اور اگر دہشتگردی کا سلسلہ نہ رکا تو یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی پالیسی کا مقصد افغانستان میں مداخلت نہیں بلکہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔

خرم دستگیر خان نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت دنیا کے سامنے واضح ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایک بڑے حریف کے مقابلے میں اپنی مزاحمتی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری ساکھ میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہاکہ جدید فضائی جنگ میں پاکستان کی کارکردگی کو دنیا بھر میں سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور ماہرین اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

عالمی سیاست میں نئی صف بندیاں بن رہی ہیں

خرم دستگیر خان نے کہاکہ عالمی سیاست میں نئی صف بندیاں بن رہی ہیں اور ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہم عالمی فورمز پر موجود رہے تاکہ اپنے مفادات کا دفاع کر سکے۔

ان کے مطابق اگر کوئی ملک عالمی فیصلوں کی میز پر موجود نہ ہو تو پھر وہ فیصلوں کا شکار بن جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایران پر حملے کے بعد عالمی امن کے مختلف فورمز کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ اگر عالمی قوانین اور ادارے مؤثر نہ رہیں تو دنیا ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف جا سکتی ہے۔

ملکی سیاست کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے اور حکومت کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایپل نے دوسری جنریشن کے ایئرپوڈز میکس 549 ڈالر میں متعارف کرا دیے

کنگ فیصل یونیورسٹی کی جنیوا انٹرنیشنل ایگزیبیشن میں بڑی کامیابی، 5 تمغے اپنے نام کرلیے

پاکستان میں نشاط گروپ کی جیکو جے 8 پلگ اِن ہائبرڈ ایس یو وی متعارف ہونے کا امکان

سعودی وزارتِ سیاحت کا مہمان نوازی مراکز اور ہوٹلوں کے معائنے تیز کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگی اسٹالز موجود ہیں

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگی اسٹالز موجود ہیں

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

ٹرمپ کا رونا دھونا شروع، پہلے بھڑکیں اب منتیں، نیتن یاہو ہلاک؟ جنید صفدر کا ہنی مون

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا