کم عمر بچوں کی جعلی نازیبا تصاویر بنانے کا الزام، ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کیخلاف مقدمہ

منگل 17 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست ٹینیسی میں چند کم عمر لڑکوں اور ایک بالغ شخص نے ٹیکنالوجی کمپنی ایکس اے آئی اور اس کے مالک ایلون مسک کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی کے چیٹ بوٹ گروک نے ان کی تصاویر کو غیر اخلاقی انداز میں تبدیل کر کے بچوں سے متعلق فحش مواد تیار کرنے کی اجازت دی۔

مدعیان کے مطابق گزشتہ دسمبر میں گرفتار ایک شخص نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام سے حاصل کردہ تصاویر کو استعمال کرتے ہوئے گروک کے ذریعے کم عمر افراد کی جعلی اور نامناسب تصاویر بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین اوربچوں کی ڈیپ فیک تصاویر، گروک کے ’اسپائسی موڈ‘ پر پابندی

یہ تصاویر بعد ازاں ڈسکورڈ اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز پر پھیلائی گئیں اور بعض کیسز میں انہیں دیگر غیر قانونی مواد کے تبادلے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔

شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی مصنوعی ذہانت کا ماڈل بالغ افراد کی جنسی نوعیت کی تصاویر بنا سکتا ہے تو اسے کم عمر بچوں کے ایسے مواد بنانے سے روکنا ممکن نہیں رہتا۔ مدعیان کے وکیل نے کہا کہ یہ بچے زندگی بھر اس صدمے کا سامنا کریں گے کیونکہ ان کی جعلی مگر نامناسب تصاویر انٹرنیٹ پر موجود رہیں گی۔

مزید پڑھیں: امریکی سول سوسائٹی گروپس کا ایکس  اور گروک کو ایپ اور پلے اسٹور سے ہٹانے کا مطالبہ

گزشتہ کچھ عرصے سے ایلون مسک اور ان کے اے آئی ٹول گروک کو مختلف ممالک میں تنقید کا سامنا ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی خواتین اور لڑکیوں کی بغیر اجازت ڈیپ فیک تصاویر بنانے کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔

تنقید کے بعد کمپنی نے تصاویر بنانے کی سہولت محدود کر دی اور 15 جنوری کو گروک کے ذریعے تصاویر میں لوگوں کو برہنہ بنانے کی صلاحیت بند کرنے کا اعلان کیا۔

برازیل، برطانیہ اور اسپین سمیت کئی ممالک ان الزامات پر تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:   خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ

مقدمے میں شامل ایک متاثرہ لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ جب ان کی بیٹی کو معلوم ہوا کہ اس کی جعلی تصاویر آن لائن پھیل چکی ہیں تو اسے شدید ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ بیٹی کی تعلیمی سال کی خوشیاں اب خوف میں بدل چکی ہیں کہ اس کی کوئی بھی تصویر دوبارہ غلط استعمال ہو سکتی ہے۔

کیس کی مرکزی وکیل انیکا مارٹن نے کہا کہ وہ ایلون مسک سے یہ سوال پوچھنا چاہتی ہیں کہ کیا وہ بطور والد اس صورتحال کو قبول کر سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بچے کی تصویر یا آواز کو اس طرح غلط اور غیر اخلاقی مواد میں استعمال کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں ایگری انٹرن پروگرام کے مثبت اثرات، گندم کی پیداوار میں اضافہ

انجری کے بعد واپسی مشکل، نیمار ایک بار پھر برازیل کے اسکواڈ سے باہر

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

آج سونے کی فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا؟

سلیم خان کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، گھر کب جائیں گے؟

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا