ایلون مسک کو ایک اور چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ خواتین کے حقوق کے گروپس، ترقی پسند کارکنان اور ٹیک ریگولیٹرز نے گوگل اور ایپل کمپنی سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ایپ اسٹورز سے ایکس اوراے آئی چیٹ بوٹ گروک کو ہٹا دیں۔
یہ بھی پڑھیں: غیراخلاقی تصویریں بنانے کا الزام، ملائشیا نے گروک چیٹ بوٹ تک رسائی بند کر دی
بدھ کے روز شائع ہونے والے ایک کھلے خط میں ان سول سوسائٹی گروپس نے مسک کی ملکیت والے ایپ پر الزام لگایا کہ یہ انتہائی پریشان کن، فحش اور غیر قانونی مواد پیدا کرتا ہے جو کمپنیوں کے سروس ٹرمز کی خلاف ورزی ہے۔
اس اقدام کے حامیوں میں نیشنل آرگنائزیشن فار ویمن، فیمنسٹ گروپ الٹرا وائلٹ ، لبرل گروپ موو آن اور والدین کے حقوق کے گروپ پیرنٹس ٹوگیدر ایکشن شامل ہیں۔
اس اتحاد کا مقصد 54 سالہ ارب پتی ایلون مسک پر دباؤ ڈالنا ہے کیونکہ ایکس اے آئی کے تحت چلنے والا گروک اے آئی دنیا بھر میں تنقید کا شکار ہوا ہے، خاص طور پر بچوں اور خواتین کی جنسی اور پرتشدد تصاویر بنانے کے الزام میں۔
مزید پڑھیے: گروک اے آئی تنقید کے نشانے پر، لوگ ناراض کیوں ہیں؟
الٹرا وائلٹ کی کیمپین ڈائریکٹر جینا شرمین نے رائٹرز سے کہا کہ ہم واقعی ایپل اور گوگل سے پرزور اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اسے سنجیدگی سے لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا نظام فعال کر رہے ہیں جس میں ہزاروں، یا شاید لاکھوں لوگ، خاص طور پر خواتین اور بچے، اپنی ایپ اسٹورز کے ذریعے جنسی زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔
کھلے خط کے جواب میں ایکس نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

انتہائی متنازع اور جنسی نوعیت کی تصاویر جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس قانونی مشکلات میں بھی پھنس گیا ہے کیونکہ متعدد ممالک گروک اے آئی کے ڈیپ فیک مواد کے حوالے سے کارروائی کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ
منگل کو ملائشیا نے غیر قانونی مواد کے حوالے سے ایکس کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا۔
اس سے قبل برطانیہ کے ریگولیٹر آف کام نے بھی ایکس پر تحقیقات شروع کیں۔
امریکی فیڈریشن آف ٹیچرز نے بھی بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر کی وجہ سے اس سوشل نیٹ ورک کو چھوڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیے: گروک پر بچوں کی نامناسب تصاویر بنوانے والے صارفین کو سخت نتائج بھگتنے کی وارننگ
دوسری جانب عالمی تنقید کے جواب میں ایکس اے آئی نے گروک میں تصویر بنانے کی خصوصیات بند کر دی ہیں اور خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی اس طرح کی قابل اعتراض تصاویر بنانے کی کوشش کرے تو سخت کارروائی کا سامنا کرے گا۔














