نائیجیریا کی بورنو ریاست کے شہر مائیڈوگوری میں یکے بعد دیگرے ہونے والے متعدد دھماکوں میں کم از کم 23 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق مشتبہ خودکش حملوں کے بعد 3 مختلف مقامات پر بم ڈسپوزل ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا نائیجیریا میں داعش کے خلاف فضائی حملہ، متعدد شدت پسند ہلاک
یہ دھماکے پیر کے روز یونیورسٹی آف مائیڈوگوری ٹیچنگ اسپتال کے داخلی دروازے اور 2 مقامی مارکیٹوں، پوسٹ آفس مارکیٹ اور منڈے مارکیٹ میں ہوئے۔
نائیجیریا کی نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے مائیڈوگوری میں آپریشنز کے سربراہ سراجو عبداللہی کے مطابق تازہ اعداد و شمار منگل کو جاری کیے گئے۔
At least 23 people were killed and 108 injured in suspected suicide bombings in Maiduguri.
The blasts targeted Monday Market, the gate of University of Maiduguri Teaching Hospital, and the Post Office Flyover.
A devastating day for the city. 💔 #Nigeria pic.twitter.com/zhmZVXMU6q— Global Pulse (@movielover93582) March 17, 2026
پولیس ترجمان نہوم کینتھ داسو نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ حملے مشتبہ خودکش بمباروں نے کیے۔
ترجمان کے مطابق، مجموعی طور پر 23 شہری ان دھماکوں میں جان کی بازی ہار گئے جبکہ 108 افراد مختلف نوعیت کے زخموں کا شکار ہوئے۔، تاحال کسی گروہ نے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب نائیجیریا کو ملک کے شمالی علاقوں میں مختلف مسلح گروہوں کی جانب سے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: نائجیریا: اغوا کی گئی 24 اسکول طالبات ایک ہفتے بعد بازیاب
شدت پسند تنظیم بوکو حرام اور اس کی ذیلی تنظیم حالیہ ہفتوں میں بورنو ریاست میں فوجی اڈوں پر حملے کر چکی ہیں۔
نائیجیرین فوج کے مطابق پیر کی صبح مائیڈوگوری کے مضافات میں مشتبہ جنگجوؤں کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔
بورنو ریاست کے گورنر بابا گانا زلم نے دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملوں میں حالیہ اضافہ سمبیسا جنگل میں جاری فوجی آپریشنز سے جڑا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے اس واقعے کو ’وحشیانہ اور غیر انسانی‘ قرار دیا۔
پولیس کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں اور امدادی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو علاقے سے دور رہنے اور پرامن رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق زخمیوں کی بڑی تعداد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں 200 سے زائد افراد زیر علاج ہیں۔
مزید پڑھیں: نائجیریا میں مسلح گروہوں کا خونریز حملہ، 30 سے زائد افراد ہلاک
مائیڈوگوری، جو کبھی روزانہ کی بنیاد پر حملوں کا مرکز تھا، حالیہ برسوں میں نسبتاً پرامن ہو گیا تھا،
تاہم دیہی علاقوں میں تشدد اب بھی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی شمال مشرقی نائیجیریا میں فوجی اڈوں پر مربوط حملوں میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ادھر یو ایس افریقہ کمانڈ کے تحت امریکا نے حال ہی میں نائیجیریا میں اپنے تقریباً 200 فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ مقامی فورسز کو تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کی جا سکے۔














