پاکستانی نژاد برطانوی ماہر اعصاب پروفیسر فیاض احمد کا کہنا ہے کہ اگرچہ مائیگرین کا مکمل علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا تاہم نئی ادویات کی بدولت ایسے مریضوں کی تعداد بہت کم ہو سکتی ہے جن پر علاج اثر نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: سر درد کے علاج کا بھیانک انجام، خوفناک تجربے نے خاتون کی زندگی داؤ پر لگا دی
پروفیسر فیاض احمد گزشتہ تقریباً 30 سال سے برطانیہ میں مائیگرین اور سر درد کے علاج اور تحقیق پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں مائیگرین کے ایسے مریض جن پر موجودہ علاج کارآمد نہیں ہوتا مستقبل میں کم ہو کر تقریباً 2 فیصد رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے سنہ 2012 میں ہُل میں این ایچ ایس کے تحت مائیگرین کے علاج کے لیے ایک خصوصی کلینک قائم کیا تھا جہاں بوٹوکس انجیکشن کے ذریعے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس کلینک میں اب تک تقریباً 5 ہزار مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔
برطانیہ میں لاکھوں افراد متاثر
اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 60 لاکھ افراد مائیگرین کا شکار ہیں۔
مائیگرین کی علامات

مائیگرین عام سر درد سے زیادہ شدید ہوتا ہے اور اس کے ساتھ کئی دیگر علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں جیسے کہ
چکر آنا، روشنی سے حساسیت، نظر دھندلا جانا، متلی اور قے اور بولنے میں مشکل پیش آنا۔
مزید پڑھیے: خلا باز سر درد کا شکار ہوتے ہیں یا نہیں؟ حقیقت سامنے آ گئی
یہ درد عموماً سر کے ایک طرف دھڑکن کی طرح محسوس ہوتا ہے اور کئی دن تک جاری رہ سکتا ہے۔
خواتین میں زیادہ عام
دی مائیگرین ٹرسٹ کے مطابق مائیگرین خواتین میں مردوں کے مقابلے میں 2 سے 3 گنا زیادہ پایا جاتا ہے۔
پروفیسر فیاض احمد کے مطابق بوٹوکس اور دیگر جدید ادویات جو دماغ میں موجود ایک کیمیائی مادے سی جی آر پی کو ہدف بناتی ہیں اب تک تقریباً 95 فیصد مریضوں کو فائدہ پہنچا چکی ہیں۔
مکمل علاج ابھی ممکن نہیں
پروفیسر احمد کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں شاید مائیگرین کا مکمل علاج سامنے نہ آ سکے کیونکہ ابھی تک سائنس دان اس بیماری کی اصل وجہ پوری طرح نہیں جان سکے۔
ان کے مطابق مائیگرین کے اہم محرکات میں ایسٹروجن ہارمون اور خاندانی جینیاتی عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔
نئی ادویات سے امید
ان کا کہنا ہے کہ ڈنمارک میں تیار کی جانے والی نئی ادویات مستقبل میں ایسے مریضوں کی تعداد کو مزید کم کر سکتی ہیں جن پر موجودہ علاج کام نہیں کرتا۔
تحقیق اور نئی نسل کی تربیت
جزوی طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروفیسر احمد تحقیق اور تربیت کے کام میں مصروف ہیں۔ وہ برٹش ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف ہیڈیک کے اعزازی مشیر بھی ہیں اور نئی نسل کے ڈاکٹروں کو تربیت دے رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی زندگی اور تحقیق پر مبنی ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ’بینیتھ دی ڈسٹ‘ ہے۔ اس کتاب میں پاکستان میں ان کے بچپن سے لے کر برطانیہ میں طب کی تعلیم اور مائیگرین کے میدان میں ان کی خدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی آمدنی تحقیق کے لیے عطیہ کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: دوا کے بجائے ان 5 غذاؤں سے سر درد سے نجات پائیں
پروفیسر احمد کا کہنا ہے کہ جب مریض سوشل میڈیا پر ان کے علاج سے فائدے کے بارے میں مثبت تبصرے کرتے ہیں تو انہیں خوشی ہوتی ہے کہ ان کے کام نے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔














