کیا مستقبل قریب میں مائیگرین کا مکمل علاج ممکن ہے؟

منگل 17 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی نژاد برطانوی ماہر اعصاب پروفیسر فیاض احمد کا کہنا ہے کہ اگرچہ مائیگرین کا مکمل علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا تاہم نئی ادویات کی بدولت ایسے مریضوں کی تعداد بہت کم ہو سکتی ہے جن پر علاج اثر نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں: سر درد کے علاج کا بھیانک انجام، خوفناک تجربے نے خاتون کی زندگی داؤ پر لگا دی

پروفیسر فیاض احمد گزشتہ تقریباً 30 سال سے برطانیہ میں مائیگرین اور سر درد کے علاج اور تحقیق پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں مائیگرین کے ایسے مریض جن پر موجودہ علاج کارآمد نہیں ہوتا مستقبل میں کم ہو کر تقریباً 2 فیصد رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے سنہ 2012 میں ہُل میں این ایچ ایس کے تحت مائیگرین کے علاج کے لیے ایک خصوصی کلینک قائم کیا تھا جہاں بوٹوکس انجیکشن کے ذریعے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس کلینک میں اب تک تقریباً 5 ہزار مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔

برطانیہ میں لاکھوں افراد متاثر

اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 60 لاکھ افراد مائیگرین کا شکار ہیں۔

مائیگرین کی علامات

پروفیسر فیاض احمد۔

مائیگرین عام سر درد سے زیادہ شدید ہوتا ہے اور اس کے ساتھ کئی دیگر علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں جیسے کہ

چکر آنا، روشنی سے حساسیت، نظر دھندلا جانا، متلی اور قے اور بولنے میں مشکل پیش آنا۔

مزید پڑھیے: خلا باز سر درد کا شکار ہوتے ہیں یا نہیں؟ حقیقت سامنے آ گئی

یہ درد عموماً سر کے ایک طرف دھڑکن کی طرح محسوس ہوتا ہے اور کئی دن تک جاری رہ سکتا ہے۔

خواتین میں زیادہ عام

دی مائیگرین ٹرسٹ کے مطابق مائیگرین خواتین میں مردوں کے مقابلے میں 2 سے 3 گنا زیادہ پایا جاتا ہے۔

پروفیسر فیاض احمد کے مطابق بوٹوکس اور دیگر جدید ادویات جو دماغ میں موجود ایک کیمیائی مادے سی جی آر پی کو ہدف بناتی ہیں اب تک تقریباً 95 فیصد مریضوں کو فائدہ پہنچا چکی ہیں۔

مکمل علاج ابھی ممکن نہیں

پروفیسر احمد کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں شاید مائیگرین کا مکمل علاج سامنے نہ آ سکے کیونکہ ابھی تک سائنس دان اس بیماری کی اصل وجہ پوری طرح نہیں جان سکے۔

ان کے مطابق مائیگرین کے اہم محرکات میں ایسٹروجن ہارمون اور خاندانی جینیاتی عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔

نئی ادویات سے امید

ان کا کہنا ہے کہ ڈنمارک میں تیار کی جانے والی نئی ادویات مستقبل میں ایسے مریضوں کی تعداد کو مزید کم کر سکتی ہیں جن پر موجودہ علاج کام نہیں کرتا۔

تحقیق اور نئی نسل کی تربیت

جزوی طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروفیسر احمد تحقیق اور تربیت کے کام میں مصروف ہیں۔ وہ برٹش ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف ہیڈیک کے اعزازی مشیر بھی ہیں اور نئی نسل کے ڈاکٹروں کو تربیت دے رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی زندگی اور تحقیق پر مبنی ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ’بینیتھ دی ڈسٹ‘ ہے۔ اس کتاب میں پاکستان میں ان کے بچپن سے لے کر برطانیہ میں طب کی تعلیم اور مائیگرین کے میدان میں ان کی خدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی آمدنی تحقیق کے لیے عطیہ کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: دوا کے بجائے ان 5 غذاؤں سے سر درد سے نجات پائیں

پروفیسر احمد کا کہنا ہے کہ جب مریض سوشل میڈیا پر ان کے علاج سے فائدے کے بارے میں مثبت تبصرے کرتے ہیں تو انہیں خوشی ہوتی ہے کہ ان کے کام نے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری مہم: صدر مملکت نے یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کی منظوری دیدی

اسپتال پر حملے میں 400 ہلاکتوں کا دعویٰ، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اسپتال پر حملے کا دعویٰ جھوٹ، افغانستان پوزیشن واضح کرے دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے یا پاکستان کے ساتھ، عطا تاڑ

حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کو غیر ملکی سرمایہ کاروں تک توسیع دے دی

جہاں جہاں اور جس چیز سے ملک کو خطرہ ہے اسے ختم کرنا پاکستان کا حق ہے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

دہشتگردوں کا نیا پروپیگنڈا، ٹرمپ عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے

کسی بھی مسئلے پر زیادہ سوچنا پیچیدہ مسئلہ ضرور، لیکن اس کا آسان حل کیا ہے؟

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا