عالمی سیاسی صورتِ حال میں پاکستانی فری لانسرز کے لیے کیا نئے مواقع ہیں؟

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے سال 2025 اور 2026 کے آغاز میں جہاں ریکارڈ ساز کامیابیاں حاصل کیں، وہاں عالمی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال کے باعث اسے کچھ نئے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

پاکستان آئی ٹی ایکسپورٹ اور حالیہ رجحانات

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر 2025 میں پاکستان کی ماہانہ آئی ٹی ایکسپورٹ پہلی بار 437 ملین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو کہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران آئی ٹی برآمدات 2.97 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زائد ہے۔

گلوبل فری لانس یونین کے صدر طفیل احمد خان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے آئی ٹی کمپنیوں کو اپنے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں 50 فیصد تک رقم رکھنے کی اجازت اور خلیجی ممالک کی مارکیٹ تک رسائی نے اس ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے پیونیئر کی طرف سے پاکستانی فری لانسرز کے لیے فیس میں بڑا اضافہ، فری لانسرز کتنا متاثر ہوں گے؟

طفیل احمد خان کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ (ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان حالیہ تنازع) نے پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کو دوہرے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ جنوری اور فروری 2026 کے اعداد و شمار میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ خلیجی ممالک (GCC) میں سرمایہ کاری کی سرگرمیاں سست ہونے سے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے آرڈرز پر اثر پڑا ہے۔ فروری میں ایکسپورٹ کم ہو کر 365 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دوسری جانب جنگی صورتِ حال میں عالمی کمپنیاں اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ کے لیے سائبر سیکیورٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر توجہ بڑھا رہی ہیں۔ پاکستانی فری لانسرز اور کمپنیوں کے لیے ان شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ روایتی برآمدات (جیسے ٹیکسٹائل) کے برعکس، آئی ٹی سیکٹر کو بحری راستوں یا سپلائی چین کے تعطل سے فرق نہیں پڑتا، جس کی وجہ سے اس سیکٹر پر بڑھتا انحصار ترقی کے مزید دروازے کھول رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت حکومتی پالیسی بہترین ہے، اس کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے، ساتھ ہی انٹرنیٹ سروس میں بہتری ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ 5 جی ٹیکنالوجی پاکستان کی آئی ٹی صنعت کو کئی گنا مزید ترقی دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

آئی ٹی صنعت کے ماہر اور فری لانسر فرحان اقبال کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 5 ارب ڈالر کا ہدف رکھا ہے، تاہم حالیہ عالمی تنازعات کے پیشِ نظر یہ حجم 4.5 ارب ڈالر تک رہ سکتا ہے۔ حکومت کے ’اڑان پاکستان‘ منصوبے کے تحت 2028-29 تک آئی ٹی برآمدات کو 10 ارب ڈالر اور 2030 تک 15 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔

یہ بھی پڑھیے فری لانسرز نے معیشت سنبھال لی

فرحان اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کو اب صرف امریکا اور خلیج پر انحصار کرنے کے بجائے جنوب مشرقی ایشیا اور افریقی ممالک کی منڈیوں میں بھی قدم جمانا ہوں گے۔

پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر مشکل عالمی حالات کے باوجود ملکی معیشت کا سب سے مستحکم ستون بنا ہوا ہے۔ اگر موجودہ پالیسیاں تسلسل سے جاری رہیں تو یہ شعبہ پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp