روس نے آسکر جیتنے والی دستاویزی فلم ’مسٹر نوبڈی اگینسٹ پیوٹن‘ کی سخت مذمت کی ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ فلم میں ایسے بچوں کو دکھایا گیا ہے جن کے والدین کی اجازت کے بغیر فلم بندی کی گئی ہے۔ یہ ماسکو کی طرف سے فلم کے اس اعلیٰ اعزاز جیتنے پر پہلی سرکاری ردعمل ہے۔
چھوٹے قصبے کے روسی اسکول ویڈیو گرافر پاول تالا نکن، 35، نے امریکی فلم ساز ڈیوڈ بورنسٹین کے ساتھ مل کر یہ دستاویزی فلم بنائی جس میں روسی اسکولوں میں صدر ولادیمیر پیوٹن کے دور میں متعارف کرائی جانے والی جنگ پسندانہ اور حب الوطنی کی تعلیمات کو اجاگر کیا گیا ہے جبکہ ماسکو یوکرین پر جارحیت کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ون بیٹل آفٹر اینادر‘ نے 6 ایوارڈز کے ساتھ آسکر میلہ لوٹ لیا
تالانکن، جو روس سے بھاگ کر یہ فلم بندی شدہ مواد بیرون ملک لے گئے اور اب کھل کر جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں، نے ابتدائی طور پر اسکول انتظامیہ کی ہدایت پر پروپیگنڈا اسباق کی ریکارڈنگ کی لیکن بعد میں امریکی ہدایتکار کے ساتھ خفیہ تعاون کا فیصلہ کیا۔
روس کی انسانی حقوق کونسل نے کہا کہ ’فلم میں بچوں کی تصاویر ان کے والدین کی اجازت کے بغیر استعمال کی گئیں‘۔ مزید کہا گیا کہ یہ فوٹیج صرف تعلیمی مقاصد کے لیے اسکول سرگرمیوں کا داخلی ریکارڈ تھا لیکن بعد میں اسے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔













