چین تیزی سے بدلتی عالمی صورتحال اور بڑھتی جغرافیائی و تزویراتی رقابت کے پیش نظر اپنی فوج کو جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت سے لیس کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، حالیہ سیاسی اجلاسوں میں واضح اشارہ دیا گیا کہ بیجنگ نے قومی سلامتی اور عسکری جدیدکاری کو اپنی طویل المدتی پالیسی کا مرکزی حصہ بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی فوج کی تاریخی پریڈ میں نئے اور اہم ہتھیاروں کی نمائش، یہ ہتھیار کن صلاحیتوں کے حامل ہیں؟
ہرسال منعقد ہونے والے چین کے اہم پارلیمانی اجلاسوں میں اس بار یہ پیغام نمایاں رہا کہ معاشی ترقی اور قومی سلامتی کو اب ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ باہم مربوط اہداف کے طور پر دیکھا جارہا ہے، چینی صدر شی جن پنگ نے عوامی لبریشن آرمی کی جدیدکاری کو مستقبل کی قومی منصوبہ بندی کا بنیادی ستون قرار دیا۔
چین کے آئندہ پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے (2026 تا 2030) میں فوج کو نمایاں کردار دینے کی توقع ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد دفاعی شعبے، جدید صنعت اور مصنوعی ذہانت میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔
فوجی مہارت کا نیا مرحلہ
چینی عسکری ماہرین اس نئے مرحلے کو ذہین عسکری نظام قرار دیتے ہیں، جس میں مصنوعی ذہانت، خودکار نظام اور جدید ڈیٹا نیٹ ورکس کو جنگی کارروائیوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل چین اپنی فوج کو میکانائزیشن اور پھر معلوماتی نظام سے ہم آہنگ کرچکا ہے، جبکہ اب اگلا مرحلہ فیصلہ سازی کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تائیوان کے لیے امریکا اپنے فوجی قربان نہیں کرے گا، چینی ماہر
اس نظام کے تحت میدانِ جنگ میں معلومات کا فوری تجزیہ، کمانڈ اینڈ کنٹرول میں بہتری اور دشمن پر فیصلہ سازی کی برتری حاصل کرنا بنیادی ہدف ہے۔ مستقبل کی جنگوں کو صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں سمجھا جا رہا بلکہ سائبر، معلوماتی اور نفسیاتی محاذوں کو بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی پر توجہ
چین کی فوج مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ کوانٹم کمپیوٹنگ، ہائپرسونک ہتھیاروں اور جدید نگرانی کے نظام پر بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے عسکری و شہری تعاون کی پالیسی اپنائی گئی ہے جس کے تحت جامعات، نجی کمپنیاں اور سرکاری ادارے دفاعی تحقیق میں شریک ہیں۔
فوج کے اندر اصلاحات
چینی قیادت نے فوج میں احتساب اور نظم و ضبط پر بھی زور دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد اعلیٰ فوجی افسران کو تحقیقات کے بعد عہدوں سے ہٹایا گیا، جس کا مقصد بدعنوانی کا خاتمہ اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانا بتایا جارہا ہے۔
دفاعی بجٹ اور حکمت عملی
2026 کیلئے چین نے تقریباً 1.9 ٹریلین یوآن دفاعی بجٹ مختص کیا ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے دفاعی اخراجات اب بھی امریکہ سے نمایاں حد تک کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی ہتھیاروں سے بھارتی فوجی ’پگھل‘ گئے تھے، امریکی سینیٹر کا متنازع دعویٰ
چین کی حکمت عملی عالمی سطح پر فوجی اڈے بڑھانے کے بجائے علاقائی استحکام، قومی خودمختاری کے تحفظ اور مؤثر دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے پر مرکوز ہے، نئی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ جدید میزائل نظام، بحری پلیٹ فارمز، آبدوزوں اور اسمارٹ عسکری ٹیکنالوجی کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔
بدلتی عالمی سیاست کا تناظر
چینی پالیسی سازوں کے مطابق دنیا یک قطبی نظام سے نکل کر کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں ٹیکنالوجی، معیشت اور سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اسی تناظر میں چین جامع قومی سلامتی کے تصور کو فروغ دے رہا ہے جس میں معاشی استحکام، تکنیکی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور عسکری طاقت کو یکجا کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر چین اپنی فوج کو صرف تعداد میں نہیں بلکہ معیار اور ٹیکنالوجی کے ذریعے مضبوط بنانے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جس کا مقصد مستقبل کی جنگی اور تزویراتی چیلنجز کیلئے طویل المدتی تیاری ہے۔













