غزہ میں عید کی روایت زندہ رکھنے کی جدوجہد

جمعرات 19 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنگ، محاصرے اور مہنگائی کے سائے میں بھی فلسطینی عوام اپنی روایات سے جڑے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غزہ میں ایک خاتون کی کہانی اسی عزم اور حوصلے کی عکاسی کرتی ہے، جو تمام مشکلات کے باوجود عید کی خوشیوں کو زندہ رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

ملبے میں بسی خوشبوئیں

غزہ کے ایک جزوی طور پر تباہ شدہ گھر میں، 60 سالہ سمیرا تومن اپنی بیٹیوں اور بہو کے ساتھ عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کعک اور معمول جیسے روایتی بسکٹوں کی خوشبو پورے گھر میں پھیل رہی ہے۔ یہ سب کچھ اس عید کی تیاری ہے جو جنگ بندی کے بعد آنے والی پہلی عید ہے، اس لیے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

مشکل حالات، مضبوط حوصلہ

سمیرا اور ان کا خاندان نہایت محنت سے آٹا گوندھتے، کھجور کی فلنگ تیار کرتے اور پھر لکڑی کے ایندھن سے جلنے والے تندور میں بیکنگ کرتے ہیں۔ گیس کی شدید قلت کے باعث ٹوٹی ہوئی لکڑی اور فرنیچر کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو اس کام کو مزید دشوار بنا دیتا ہے۔

سمیرا کے بقول ’یہ عید کا موسم ہے، برکتوں کا وقت ہے۔ پہلے ہم رات بھر بیکنگ کرتے تھے، لیکن اب حالات مختلف ہیں‘۔

روایت اور روزگار ساتھ ساتھ

سمیرا صرف اپنے گھر کے لیے نہیں بلکہ پڑوسیوں اور گاہکوں کے آرڈرز بھی پورے کر رہی ہیں۔ اس سے انہیں عید سے قبل کچھ مالی سہارا بھی مل جاتا ہے۔ مہنگائی کے باوجود لوگ عید کی روایتی مٹھاس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے طلب اب بھی موجود ہے۔

سرحدی بندشیں اور مہنگائی کا طوفان

حالیہ علاقائی کشیدگی، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے بعد، غزہ کی سرحدیں بارہا بند کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں آٹا، گھی، چینی اور کھجور جیسی بنیادی اشیا کی قیمتیں دگنی ہو گئیں۔ اگرچہ کچھ حد تک راستے کھلے ہیں، مگر قیمتیں اب بھی عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

جنگ سے پہلے اور بعد کی زندگی

سمیرا کو وہ وقت یاد ہے جب وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا گھریلو کاروبار چلاتی تھیں۔ ان کے پاس جدید کچن، اوون اور تمام سہولیات موجود تھیں۔ مگر جنگ نے سب کچھ چھین لیا، اور اب وہ صفر سے دوبارہ آغاز کر رہی ہیں—بغیر کسی مشینری اور سہولت کے، صرف ہاتھوں کی محنت سے۔

بے یقینی کی زندگی

خان یونس سے بے دخلی کے بعد سمیرا حال ہی میں واپس اپنے گھر لوٹی ہیں، مگر واپسی کا یہ سفر بھی آسان نہیں۔ تباہ حال گھر، بنیادی سہولیات کی کمی اور مسلسل غیر یقینی صورتحال نے زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

سمیرا کہتی ہیں ’خوشی یہاں کبھی مکمل نہیں ہوتی، کوئی نہ کوئی دکھ ساتھ ضرور ہوتا ہے‘۔

امید کی کرن

تمام تر مشکلات کے باوجود، سمیرا اور ان کا خاندان عید کی خوشیوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ آنے والا وقت بہتر ہو، قیمتیں کم ہوں اور زندگی میں استحکام آئے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ عید ہمارے لیے بہتر دن لے کر آئے گی۔ ہم اس طویل مشکل دور سے تھک چکے ہیں۔

بشکریہ: الجزیرہ

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران مذاکرات: نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان یا ترکیہ بھیجنے کی قیاس آرائیاں

قاسم خان کا جنیوا میں بی این ایم رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب، پاکستان مخالف حلقوں سے روابط پر سوالات

ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے، امریکا کا انتباہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے 14 اور 15 مئی کو دورہ چین کا اعلان، صدر شی جن پنگ سے ملاقات طے

ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو صدارتی سائنس و ٹیکنالوجی کونسل میں شامل کرلیا

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ