پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر ایک بڑا اضافہ متوقع، سمری ارسال

جمعہ 20 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے جس کا باقاعدہ اعلان آج تاریخ بدلنے تک متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ، شہریوں کو لمبی لائنوں کا سامنا

میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ حکام نے حکومت کو ایک سمری ارسال کی ہے جس میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 29 روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

ڈیزل پرائس میں بھی اس مرتبہ بڑے اضافے کا امکان ہے۔ اس کی قیمت میں 49 روپے تک اضافے کی سفارش کی گئی ہے تاہم حتمی منظوری وزیراعظم شہباز شریف دیں گے۔

گزشتہ ہفتے حکومت کا ’ہلکا ہاتھ‘

اطلاعات کے مطابق 14 مارچ کو حکومت نے عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے تقریباً 23 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا تھا۔

مزید پڑھیے: کیا عید پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے؟

اس فیصلے کے تحت 14 سے 20 مارچ تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم اس سے پیوستہ ہفتے میں اضافہ 55 روپے فی لیٹر تھا۔

حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ اس عرصے کے دوران پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی مد میں حکومت نے مالی بوجھ اٹھایا حالانکہ اس وقت پیٹرول کی قیمت میں 49 روپے 63 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 75 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافے کی گنجائش موجود تھی۔

کچھ حوصلہ افزا اطلاع

دوسری جانب یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے کے لیے بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔ اس کے لیے حکومت ایک بار پھر مالی بوجھ اپنے ذمہ لینے پر غور کر رہی ہے تاکہ عوام کو فوری مہنگائی سے بچایا جا سکے۔

قیمتوں میں ٹیکس کا بڑا حصہ

اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 121 روپے 77 پیسے ٹیکس شامل ہے جو مجموعی قیمت کا تقریباً 38 فیصد بنتا ہے۔

اسی طرح ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 73 روپے 42 پیسے ٹیکس شامل ہے جو کل قیمت کا تقریباً 22 فیصد ہے۔

مزید پڑھیں: ایران جنگ کے اثرات: بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی قیمت بھی 300 روپے لیٹر تک جا پہنچی

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کسٹم ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سمیت مختلف ٹیکسز شامل ہوتے ہیں جو قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp