امریکا اور جاپان کے درمیان اس ہفتے اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب اوول آفس میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک متنازع بیان نے شدید ردعمل کو جنم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کو لگام: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی پالیسی جاری کردی
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے جاپان کی وزیراعظم سنے تاکائیچی سے مخاطب ہو کر ایک چبھتا ہوا جملہ کہا کہ ’سرپرائز کے بارے میں جاپان سے بہتر کون جانتا ہے‘۔ اس کے بعد انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے مجھے پرل ہاربر کے بارے میں کیوں نہیں بتایا۔
ان کا جملہ مذاق تھا یا سفارتی لغزش؟
یہ تبصرہ بظاہر مذاق کے طور پر کیا گیا تاہم اس نے وزیراعظم تاکائیچی کو حیران کر دیا اور جاپان میں اسے ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے رسمی عشائیہ بھی کیا مگر یہ بیان سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر شدید بحث کا باعث بن گیا۔
سوشل میڈیا پر احتجاجی ویڈیوز وائرل
جاپان میں مبینہ طور پر ’اینٹی ٹرمپ‘ احتجاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں جن میں رات کے وقت بڑے مظاہرے دکھائے گئے۔ تاہم حقائق جانچنے والے اداروں کے مطابق ان میں سے بعض ویڈیوز پرانی تھیں یا دیگر سیاسی مظاہروں سے متعلق تھیں۔
جاپان میں بے چینی برقرار
آن لائن ابہام کے باوجود ٹوکیو میں اس معاملے پر حقیقی بے چینی پائی جاتی ہے۔
وزیراعظم سنے تاکائیچی نے اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے خود کو اور ٹرمپ کو قریبی ساتھی کہا تاہم جاپان کے کئی شہریوں نے سنہ 1941 کے پرل ہاربر حملے کا حوالہ دینے کو ایک اہم اتحادی کے لیے غیر مناسب اور غیر حساس قرار دیا ہے۔
ماضی کے جھروکوں سے
یاد رہے کہ 7 دسمبر 1941 کو جاپان نے ہوائی میں واقع امریکی بحری اڈے پرل ہاربر پر اچانک حملہ کیا تھا جس نے دوسری جنگ عظیم کا رخ بدل دیا۔ اس فضائی حملے میں سینکڑوں جاپانی طیاروں نے امریکی جنگی جہازوں، ہوائی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد امریکی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ اس حملے کا مقصد بحرالکاہل میں امریکی طاقت کو کمزور کرنا تھا تاکہ جاپان کو خطے میں اپنی فوجی پیش قدمی کا موقع مل سکے۔
اس واقعے کے فوری بعد امریکا میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور اگلے ہی دن امریکی کانگریس نے جاپان کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کر دیا۔ صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے اسے ’بدنامی کا دن‘ قرار دیا۔ اس کے بعد امریکا پوری قوت کے ساتھ دوسری جنگ عظیم میں شامل ہو گیا جس کے نتیجے میں نہ صرف بحرالکاہل بلکہ یورپ میں بھی جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا اور عالمی سطح پر طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا۔
امریکا کا جاپان پر ایٹمی بم کا حملہ
دوسری جنگ عظیم کے آخری سال 1945 میں امریکا نے جاپان پر ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگست 1945 میں 2 اہم شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم گرائے گئے۔ 6 اگست کو ہیروشیما میں گرا بم تقریباً 1.4 لاکھ افراد کی فوری اور بعد ازاں تابکاری سے ہلاکتوں کا باعث بنا۔ 3 دن بعد 9 اگست کو ناگاساکی پر دوسرا بم گرا جس سے تقریباً 7 لاکھ افراد متاثر ہوئے جن میں ہزاروں ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔
جاپان کی ہتھیار بندی اور جنگ کا خاتمہ
ان تباہ کن حملوں کے بعد جاپانی قیادت نے امریکی جارحیت کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ 15 اگست 1945 کو جاپان نے باضابطہ ہتھیار بندی کا اعلان کیا جس کے بعد دوسری جنگِ عظیم اختتام پذیر ہوئی۔ اس کے نتیجے میں عالمی سیاست اور فوجی توازن پر گہرا اثر پڑا اور ایٹمی ہتھیاروں کے عالمی منظرنامے میں داخلے کا آغاز ہوا۔
صدر ٹرمپ کا ’طنز‘ اور اس کے اثرات
کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی پرل ہاربر والی بات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی حساس ہے۔














