رات کے اوقات میں دل کی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے ماہرین نے چند مضر عادات سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مستقبل قریب میں مائیگرین کا مکمل علاج ممکن ہے؟
کارڈیالوجسٹس کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ رات کے وقت کی کچھ معمولی لگنے والی سرگرمیاں بھی دل پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق شام اور رات کا معمول نہ صرف نیند بلکہ ہارمونز اور بلڈ پریشر کو بھی متاثر کرتا ہے اس لیے اس وقت اختیار کی جانے والی عادات دل کی صحت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔
رات کا کھانا
ماہرین کا کہنا ہے کہ رات گئے بھاری یا چکنائی سے بھرپور کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ایسے کھانے ہاضمے کے عمل کو تیز رکھتے ہیں جس سے دل کو آرام کے بجائے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
کافی
اسی طرح شام کے وقت کافی یا توانائی بخش مشروبات کا استعمال بھی مناسب نہیں، کیونکہ یہ دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو متاثر کر کے نیند میں خلل ڈال سکتے ہیں۔
موبائل و کمپیوٹر
سونے سے پہلے موبائل، کمپیوٹر یا ٹی وی کا زیادہ استعمال بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: لاعلاج بیماریوں کا علاج: اب تک ناممکن کام کا بیڑا مصنوعی ذہانت نے اٹھا لیا
ان اسکرینز سے نکلنے والی نیلی روشنی جسم کی قدرتی گھڑی کو متاثر کرتی ہے اور نیند کے معیار کو کم کر دیتی ہے۔
ورزش
ڈاکٹرز یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے آخری حصے میں سخت ورزش سے بچنا چاہیے۔
یوں تو ورزش صحت کے لیے ضروری ہے لیکن سونے سے پہلے شدید جسمانی سرگرمی جسم کو زیادہ متحرک کر دیتی ہے جس سے نیند متاثر ہو سکتی ہے۔
ذہنی دباؤ
اسی طرح ذہنی دباؤ، بحث مباحثہ یا زیادہ سوچ بچار بھی سونے سے پہلے مناسب نہیں۔
یہ عوامل تناؤ کے ہارمونز میں اضافہ کرتے ہیں، جس سے دل اور جسم دونوں کو سکون نہیں ملتا۔
پرسکون رات
ماہرین کے مطابق ایک پرسکون اور متوازن رات کا معمول اپنانا ضروری ہے۔
ہلکی غذا، مدھم روشنی اور آرام دہ ماحول بہتر نیند اور دل کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کولیجن سپلیمنٹس جلد کی لچک بہتر بناتے ہیں مگر کیا جھریاں بھی ختم ہوجاتی ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ عادات میں معمولی تبدیلیاں بھی دل کی بیماریوں سے بچاؤ اور مجموعی صحت میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔













