سعودی عرب کا ایران کے اقدامات پر سخت ردعمل، سفارتی عملہ ملک بدر

اتوار 22 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی وزارتِ خارجہ نے ایران کی جانب سے مملکتِ سعودی عرب، خلیج تعاون کونسل اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے خلاف حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے یہ اقدامات نہ صرف حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کے منافی ہیں بلکہ ان سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور دوطرفہ تعلقات مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 منظور، سعودی عرب کا ایران کے حملوں کی مذمت پر خیرمقدم

سعودی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایران کے سفارت خانے کے عسکری اتاشی، ان کے معاون اور سفارتی عملے کے 3 دیگر ارکان کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا ہے۔ مذکورہ افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے سعودی عرب کی ایران کے حملوں کی مذمت، قومی سلامتی کے لیے تمام اقدامات کا عندیہ

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں و مقیمین کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ وزارت کے مطابق مملکت اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 27 مارچ کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کردیا

ڈیپ فیک کی دنیا: لوگ تشکیک کا شکار،شناخت کی تصدیق کا مؤثر طریقہ کیا؟

مشرق وسطیٰ کشیدگی: وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر کی ٹیلیفونک گفتگو، رابطے میں رہنے پر اتفاق

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سندھ کابینہ کے اراکین 3 ماہ کی تنخواہوں سے دستبردار، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں معطل

چین میں بیلٹ اینڈ روڈ اسکالرشپ ایوارڈ تقریب، پاکستانی سفیر کی شرکت، طلبہ کو اعزازات سے نوازا

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ