عمران خان کا پمز میں طبی معائنہ اور علاج، حالت تسلی بخش قرار

پیر 23 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان کی خراب آنکھ کے علاج کے سلسلے میں پیر کے روز اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پمز میں تیسرے طبی عمل کے لایا گیا۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف انٹرا وٹریئل انجیکشن کی تیسری خوراک لگانے کے لیے پمز لایا گیا۔

اسپتال انتظامیہ نے بتایا ہے کہ طبی عمل سے پہلے، دورانِ عمل اور بعد میں عمران خان کی حالت مستحکم رہی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف کا دوسرا انجیکشن بھی لگا دیا گیا، پمز نے تصدیق کردی

پمز کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم کو اسپتال اس لیے منتقل کیا گیا کیونکہ تیسرا انجیکشن مقررہ وقت پر لگانا ضروری تھا۔

مریض کی باخبر رضامندی حاصل کرنے کے بعد، آپریشن تھیٹر میں تمام احتیاطی تدابیر اور معیاری پروٹوکول کے تحت، مائیکروسکوپی کی رہنمائی میں سرجنز نے انجیکشن لگایا۔

ڈاکٹر کے مطابق انجیکشن کے بعد انہیں کچھ دیر نگرانی میں رکھا گیا تاکہ ان کی حالت کا جائزہ لیا جا سکے، جس کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں: ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ کی عدم موجودگی میں عمران خان کا طبی معائنہ قابلِ اعتبار نہیں، پی ٹی آئی

انہوں نے مزید بتایا کہ انجیکشن آنکھ کے اندرونی حصے میں دیا گیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عموماً اس طرح کے کیسز میں 3 انجیکشن دیے جاتے ہیں، اس لیے چوتھے انجیکشن کا امکان کم ہے۔

تاہم، انجیکشن کے اثرات 4 ہفتوں بعد جانچے جاتے ہیں، جس کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ مزید خوراک کی ضرورت ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ کی عدم موجودگی میں عمران خان کا طبی معائنہ قابلِ اعتبار نہیں، پی ٹی آئی

عمران خان کی آنکھ کی بیماری ‘رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن’ جنوری کے آخر میں سامنے آئی تھی۔

ان کا پہلا طبی عمل 24 جنوری کو کیا گیا تھا، جس کی تصدیق حکومت نے میڈیا رپورٹس کے 5 دن بعد کی۔

بعد ازاں عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ دورانِ حراست سابق وزیرِاعظم کی دائیں آنکھ کی بینائی کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی میں بہتری آگئی، بیرسٹر گوہر کا اقرار

15 فروری کو 5 رکنی میڈیکل ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا ابتدائی معائنہ کیا تھا، جبکہ 24 فروری کو انہیں فالو اپ کے لیے پمز لایا گیا، جہاں انہیں اینٹی وی ای جی ایف انجیکشن کی دوسری خوراک دی گئی۔

اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔

اپوزیشن حکومت پر شفافیت نہ برتنے، مناسب علاج فراہم نہ کرنے اور عمران خان کے ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینے کا الزام عائد کررہی ہے، جسے حکومت مسترد کرتی رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور چین کا مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

آج شہباز شریف نہیں ’شاباش شریف‘، کامیاب سفارتکاری پر پاکستانی فنکار بھی میدان میں

اسلام آباد: سری نگر ہائی وے پر ڈائیورشنز، شہریوں کو اضافی وقت لے کر سفر کی ہدایت

بنگلہ دیش کرکٹ تنازع: بُلبُل کا آئی سی سی سے مداخلت کا مطالبہ

صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایرانی اچھے مذاکرات کار ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

ویڈیو

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

اسکردو میں سانحہ گیاری کے شہدا کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟