ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس نے دارالحکومت ڈھاکا میں فٹ پاتھوں اورسڑکوں کے کناروں پر قائم تمام غیر قانونی دکانوں اور عارضی اسٹالز کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
جبکہ خبردار کیا گیا ہے کہ یکم اپریل سے اس حکم پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ڈھاکا میں جاری کردہ ایک عوامی نوٹس میں پولیس حکام نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ریستوران، ورکشاپس، گاڑیوں کی مرمت کے گیراج، کپڑوں کی دکانیں اور اسٹریٹ وینڈرز سمیت کئی کاروباری ادارے فٹ پاتھوں اور سڑکوں کے حصوں پر غیر قانونی طور پر قابض ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: ہجوم کے تشدد پر زیرو ٹالرنس، وزیر کا سخت انتباہ
نوٹس کے مطابق ریستورانوں کے کھانا پکانے کے آلات، میزیں اور کرسیاں، تعمیراتی سامان، گاڑیوں کے پرزہ جات، کپڑوں کی نمائش، فرنیچر اور ورکشاپ کے اوزار اکثر فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر رکھ دیے جاتے ہیں۔
جس کے باعث پیدل چلنے والوں کو مجبوراً مصروف سڑکوں پر چلنا پڑتا ہے، جو کہ عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پولیس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض آٹو مرمت کی دکانیں گاڑیوں کی سروس کے لیے سڑکوں اور فٹ پاتھوں کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیتی ہیں، جس سے ٹریفک جام اور حادثات میں اضافہ ہوتا ہے۔
پولیس کے مطابق فٹ پاتھوں پر غیر قانونی قبضوں کے باعث نہ صرف پیدل چلنا مشکل اور غیر محفوظ ہو گیا ہے بلکہ شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: ٹرین اور بس میں تصادم، 12 افراد جاں بحق
حکام نے تمام دکانداروں، ورکشاپ مالکان اور کاروباری اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ عوامی مفاد میں فوری طور پر اپنے سامان، ڈھانچے اور دیگر اشیاء فٹ پاتھوں اور سڑکوں سے ہٹا دیں۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ یکم اپریل 2026 سے پولیس اور ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی مشترکہ ٹیمیں ڈھاکا بھر میں کارروائیاں کریں گی، اور ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف جرمانے، بے دخلی اور سامان ضبط کرنے سمیت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
پولیس نے شہریوں اور کاروباری افراد سے تعاون کی اپیل بھی کی ہے تاکہ دارالحکومت میں پیدل چلنے والوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔













