کیا تھوڑی سی خودغرضی تعلقات کو بہتر بنا سکتی ہے؟ ماہرین کی دلچسپ رائے

پیر 23 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تعلقات میں خود کو پسِ پشت ڈال دینا عموماً ایک مثبت رویہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ حد سے زیادہ قربانی ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: دوست زیادہ ہوں تو اچھا، کم ہوں تو اور اچھا، جانیے کیسے؟

حالیہ رپورٹس کے مطابق اگر کوئی فرد مسلسل اپنی خواہشات اور ضروریات کو نظرانداز کرتا رہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف ذہنی دباؤ بڑھتا ہے بلکہ تعلقات میں بھی دوریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین ’صحت مند خودغرضی‘ کو ایک ایسے متوازن رویے کے طور پر دیکھتے ہیں جو نہ صرف فرد کی ذاتی خوشی کو برقرار رکھتا ہے بلکہ تعلقات کو بھی زیادہ مضبوط اور دیرپا بنانے میں مدد دیتا ہے۔

اکثر لوگ خودغرضی کو ایک منفی صفت کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ اسے عام طور پر بے حسی اور دوسروں کو نظر انداز کرنے سے جوڑا جاتا ہے۔

ہماری معاشرتی اقدار میں ایثار، برداشت اور دوسروں کو ترجیح دینا اعلیٰ اخلاق سمجھا جاتا ہے جبکہ خودغرضی کو ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق عمومی تاثر یہی ہے کہ اچھے تعلقات وہی ہوتے ہیں جہاں انسان خود سے پہلے دوسروں کو رکھے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص مسلسل اپنی ضروریات کو دباتا رہے تو وقت کے ساتھ ذہنی دباؤ، بے چینی اور تعلقات میں دراڑ پیدا ہو سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تھوڑی سی ’صحت مند خودغرضی‘ دراصل تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کا مطلب دوسروں کو نظرانداز کرنا نہیں بلکہ ان کے حقوق متاثر کیے بغیر اپنی ضروریات، حدود اور جذبات کو اہمیت دینا ہے۔

خواہشات کو دبا کر صرف تعلق برقرار رکھنا

تعلقات میں بڑے جھگڑوں سے زیادہ نقصان اکثر ان خاموش قربانیوں سے ہوتا ہے جو ایک فریق مسلسل دیتا رہتا ہے۔ جب کوئی شخص بار بار اپنی خواہشات کو دبا کر صرف تعلق برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اندر ہی اندر ناراضی جمع ہونے لگتی ہے۔

مثلاً ناپسندیدہ منصوبوں پر رضامندی ظاہر کرنا، اضافی ذمہ داریاں اٹھا لینا یا دل کی بات نہ کہنا وقتی طور پر آسان لگتا ہے مگر طویل مدت میں یہ رویہ تھکن اور مایوسی میں بدل جاتا ہے۔

قربانی اپنی جگہ اہم ہے مگر یہ توازن کے ساتھ ہونی چاہیے۔ جب ایک ہی فرد مسلسل خود کو پیچھے رکھتا ہے تو تعلقات میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔ اپنی پسند ناپسند کا اظہار، آرام کی ضرورت بتانا اور حدود مقرر کرنا اس خاموش ناراضگی کو پیدا ہونے سے روکتا ہے۔

اپنی شناخت برقرار رکھنا

گہرے تعلقات میں فطری طور پر لوگ ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں لیکن اگر ایک فرد حد سے زیادہ سمجھوتہ کرے تو وہ اپنی پہچان کھونے لگتا ہے۔

مزید پڑھیے: کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

ایسا اکثر اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنی زندگی کو مکمل طور پر دوسرے کی ترجیحات کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ آہستہ آہستہ ذاتی مشاغل، دوستیاں اور دلچسپیاں پسِ پشت چلی جاتی ہیں اور انسان خود سے یہ سوال کرنے لگتا ہے کہ اس کی اپنی زندگی کہاں گئی۔

تحقیقات کے مطابق تعلقات میں خودمختاری برقرار رکھنا خوشی اور اطمینان کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے اپنی دلچسپیوں کے لیے وقت نکالنا، دوستوں سے رابطہ رکھنا اور ذاتی اہداف کا تعاقب کرنا نہ صرف فرد کے لیے بلکہ تعلق کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

تعلقات میں توازن پیدا کرنا

ہر تعلق چھوٹے چھوٹے رویوں اور روزمرہ کے تعاملات سے بنتا ہے۔ یہی رویے طے کرتے ہیں کہ دونوں افراد ایک دوسرے سے کیا توقع رکھتے ہیں اور کس حد تک ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جب ایک شخص اپنی ضروریات اور حدود واضح کرتا ہے تو دوسرا بھی اسی کے مطابق ردعمل دینا سیکھتا ہے۔ اگر کوئی مسلسل قربانی دیتا رہے تو دوسرا فریق اسے معمول سمجھنے لگتا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی ترجیحات واضح کرے، ضرورت پڑنے پر ’نہ‘ کہنا سیکھے اور اپنے لیے وقت نکالے۔ یہ رویہ تعلقات میں توازن قائم رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: چڑیا گھر میں ’پنچ‘  نامی بندر بچے کی نئی دوستی، سوشل میڈیا پر دھوم

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ منفی خودغرضی وہ ہے جو دوسروں کو مکمل نظرانداز کر دے جبکہ صحت مند خودغرضی وہ ہے جو خود اور دوسروں دونوں کی ضروریات کو متوازن رکھے۔ یہی توازن مضبوط، خوشگوار اور دیرپا تعلقات کی بنیاد بنتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران مذاکرات: نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان یا ترکیہ بھیجنے کی قیاس آرائیاں

قاسم خان کا جنیوا میں بی این ایم رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب، پاکستان مخالف حلقوں سے روابط پر سوالات

ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے، امریکا کا انتباہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے 14 اور 15 مئی کو دورہ چین کا اعلان، صدر شی جن پنگ سے ملاقات طے

ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو صدارتی سائنس و ٹیکنالوجی کونسل میں شامل کرلیا

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ