پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے حوالے سے حکمت عملی میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جس میں سڑکوں پر احتجاج، دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے بجائے عدالتوں میں قانونی جنگ کو زیادہ زور دار طریقے سے لڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے کارکن احتجاج کے لیے کیوں نہیں نکل رہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی ہم خیال اتحادی جماعتوں نے رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ سیاسی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں، وہ اب رمضان المبارک کے بعد سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کریں گی۔
رمضان المبارک میں پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے عدالتوں میں زیر التوا کیسز کی سماعت تیز کرنے کے لیے حکمت عملی نظر آئی اور قانونی ٹیم میں سینیئر وکلا کو شامل کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ مل کر سینیئر قانون دان اعتزاز احسن کو عمران خان کے لیے وکیل مقرر کیا ہے جبکہ لطیف کھوسہ جلد ضمانت پر عمران خان کی رہائی کی نوید سنا چکے ہیں جس کے بعد ان کے کیسز کی سماعت میں کافی حد تک تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
ورکرز قیادت سے مطمئن نہیں، لیکن کیوں؟
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ جانب سے عید سے قبل عمران خان کی رہائی کے دعوؤں اور رہائی ممکن نہ ہونے کے بعد ورکرز قیادت کے سامنے کھڑے ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیے: منظم عوامی جدوجہد ناگریز ہوچکی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا عمران خان رہائی فورس بنانے کا اعلان
گزشتہ دنوں اسلام آباد میں عمران خان کے کیسز کی سماعت کے بعد بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ اور دیگر قائدین جب عدالت سے باہر آئے تو کچھ ورکرز قیادت سے سوالات پوچھنے لگے۔
ایک کارکن نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قائدین عمران خان کی رہائی کا کہہ رہے ہیں لیکن وہ رہا کب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قیادت کام نہیں کر سکتی تو ورکرز سڑکوں پر عوامی عدالت لگانے کو تیار ہیں۔
جس کے جواب میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ کئی کیسز میں ضمانت مل چکی ہے جبکہ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جن کیسز میں سزا ہوئی ہے وہ سارے جعلی ہیں اور وہ لڑ رہے ہیں۔ تاہم ورکر نے سوال کیا کہ خان آخر کب جیل سے رہا ہوں گے جس کا ان کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کارکن رشید احمد کا بھی یہی سوال ہے کہ آخر رہائی کیسے اور کب ہو گی؟ ان کے مطابق پارٹی قائدین کے پاس ورکرز کے اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں ہے۔
رشید احمد نے کہا ’ہمیں بتایا جاتا ہے کہ احتجاج کریں گے، دھرنا دیں گے تو خان باہر آئیں گے۔ کئی بار دھرنے دیے، جلسے کیے، جلوس نکالے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا‘۔
مزید پڑھیں: ’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟
انہوں نے کہا کہ انہیں ’آج کل‘ کا بولا جاتا ہے لیکن نہ وہ آج آئی اور نہ ہی کل۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پارٹی قیادت پر ورکرز کا اعتماد بھی نہیں رہا۔
کیا عمران خان کی رہائی کے لیے بیک ڈور رابطے ہو رہے ہیں؟
پی ٹی آئی عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے سلسلے میں اسٹریٹ مہم دوبارہ شروع کر رہی ہے جو عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ تحریک کی صورت میں ورکرز کو فعال کرے گی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان کی رہائی احتجاج یا دھرنوں سے شاید ممکن نہ ہو البتہ مذاکرات کے نتیجے میں پیشرفت ممکن ہو سکتی ہے۔
تاہم پاکستان تحریک انصاف بیک ڈور مذاکرات یا رابطوں کی مسلسل تردید کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرام راجا کے مطابق اس وقت کسی سے کوئی رابطے نہیں ہیں اور نہ ہی بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ عدالتوں میں قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔
کیا پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے قریب پہنچ چکی ہے؟
سیاسی طور پر عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں تاہم پی ٹی آئی کی قانونی جنگ کو مضبوط کرنے کی پالیسی کارآمد نظر آ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رواں سال میں کافی حد تک پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کی رہائی سے متعلق نئی پیشرفت، پنجاب کو نئی سہولیات مل گئیں
اسلام آباد کے سینیئر صحافی جو عمران خان کے کیسز کی کوریج کرتے ہیں، ان کے مطابق بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے اس سال کے شروع کے 2 مہینے بہت اہم رہے جن میں عمران خان کی رہائی کے آثار بھی دکھائی دینے لگے۔
انہوں نے تجزیہ دیتے ہوئے بتایا کہ جنوری اور فروری میں سب نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی کو متعدد بار اڈیالہ جیل، سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے رفقا کے ساتھ دیکھا۔ کہیں وہ احتجاج کرتے نظر آتے اور کہیں بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف مقدمات کی پیروی کرتے نظر آتے۔
انہوں نے بتایا کہ کئی دفعہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی کوشش کی گئی جس میں انہیں جزوی کامیابی بھی ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرسٹر گوہر علی خان اور سلمان اکرام راجا چیف جسٹس سے ملاقاتیں ہوئیں اور سپریم کورٹ میں عمران خان کی بعض سزاؤں کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہو گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سہیل آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی جلد سماعت کی درخواستیں دائر کرنے کے لیے لائے اور اس دوران ایک موقعے پر ان کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے بات چیت بھی ہوئی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کی مہم کیا رمضان میں چھٹی پر چلی گئی؟
پشاور کے نوجوان صحافی شہاب الرحمان کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کی قانونی جنگ میں تیزی اور بہتری دیکھنے میں آئی ہے لیکن سیاسی طور پر ابھی بہت آگے جانا ہے۔
شہاب الرحمان نے کہا کہ ’عمران خان سے جو حلقے ناراض ہیں انہیں راضی کرنا باقی ہے۔ اس وقت انہیں راضی کرنے کے لیے کچھ نہیں ہو رہا، یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس وقت کسی کو سننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ جلسے جلوس اور مارچ سے حکومت پر پریشر آ جاتا ہے جس کی وجہ سے حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتی ہے لیکن اس وقت پی ٹی آئی میں قیادت کا فقدان ہے۔
شہاب الرحمان نے کہا کہ ’نہ بیک ڈور مذاکرات نہ رابطے، مجھے نہیں لگتا خان کی رہائی جلد ہوگی، ابھی مزید وقت لگے گا‘۔
کون سے کیسز عمران خان کی رہائی کی راہ میں رکاوٹ ہیں؟
عمران خان کے خلاف بنیادی طور پر زیر التوا مقدمات میں توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کے مقدمات شامل ہیں۔ توشہ خانہ 1 کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنہ 2024 میں فیصلہ معطل کر دیا تھا جبکہ توشہ خانہ 2 مقدمے میں سماعتیں جاری ہیں۔ علاوہ ازیں القادر ٹرسٹ کیس میں بھی سماعت جاری ہے۔
اب پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے کیا کرے گی؟
پاکستان تحریک انصاف کے مطابق عید کے بعد سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوں گی اور عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی جدوجہد کا عمل شروع ہو گا۔
مزید پڑھیے: عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ کم کیوں ہوا؟ علی امین گنڈا پور کا اندرونی کمزوریوں کا اعتراف
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کٹھانہ کے مطابق پی ٹی آئی ورکرز اس وقت تیار ہیں اور اگر احتجاج کی کال دی گئی تو پورا پاکستان نکلے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بانی عمران خان نے احتجاج یا دھرنے کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو دیا ہے اور وہ جب بھی کال دیں گے ورکرز نکلیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اسٹریٹ موومنٹ کو دوبارہ شروع کریں گے جو رمضان کی وجہ سے ہالٹ پر تھی۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی عید کے بعد عمران خان رہائی موومنٹ تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اکرام کٹھانہ نے کہا ہے کہ اب جلد ہی ’رہائی فورس‘ کی تشکیل ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی ممکن بنانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ رائے عامہ
ان کا کہنا تھا کہ اس بار اگر احتجاج کی کال دی گئی تو کوئی بھی نہیں سنبھال سکے گا۔














