عالمی کشیدگی اور پاکستان کی معیشت

منگل 24 مارچ 2026
author image

سیدہ سفینہ ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کو ہم نے برسوں تک ایک ’گلوبل ولیج‘ کے طور پر دیکھا، ایک ایسی جگہ جہاں فاصلے سمٹ گئے، سرحدیں نرم ہو گئیں اور معیشتیں ایک دوسرے سے جڑ گئیں۔ مگر آج یہی جڑاؤ ایک کمزوری بن چکا ہے۔ اب کہیں بھی ہونے والا بحران صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

آج جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے، خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ شدت اختیار کرتا ہے، تو اس کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ عالمی معیشت کی رگوں میں دوڑتے ہوئے ہر ملک، ہر شہر اور ہر گھر تک پہنچ جاتے ہیں۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورتحال کسی طوفان سے کم نہیں، ایک ایسا طوفان جس کا مرکز ہزاروں میل دور ہے، مگر اس کی تباہی یہاں کے عام شہری کے دسترخوان تک پہنچتی ہے۔

عالمی بحران کا معاشی ڈومینو اثر

دنیا کی معیشت آج اس حد تک باہم جڑی ہوئی ہے کہ ایک خطے میں پیدا ہونے والی ہلکی سی لرزش بھی عالمی سطح پر زلزلہ بن جاتی ہے۔ جب تیل پیدا کرنے والے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلے توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں، اور پھر یہی اضافہ ہر چیز کی قیمت میں منتقل ہو جاتا ہے۔

پاکستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس اثر کو سب سے زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا اثر اسلام آباد میں پالیسی سازی سے لے کر کراچی کی گلیوں اور لاہور کی منڈیوں تک محسوس ہوتا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ایک خاموش انسانی بحران ہے۔

مہنگائی: اعداد نہیں، اذیت کی کہانی

جب پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب صرف گاڑی چلانے کا خرچ بڑھنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اثر زندگی کے ہر پہلو پر پڑتا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے والے ٹرکوں کا خرچ بڑھ جاتا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست صارف پر منتقل ہوتا ہے۔ آٹا، دال، چینی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بتدریج بڑھنے لگتی ہیں، اور یوں ایک عام گھر کا بجٹ مکمل طور پر بگڑ جاتا ہے۔

ایک مزدور یا دیہاڑی دار کے لیے یہ صورتحال نہایت سنگین ہو جاتی ہے۔ اس کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، مگر اس کے اخراجات مسلسل بڑھتے جاتے ہیں۔

نتیجتاً وہ اپنی بنیادی ضروریات کو بھی پورا کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے، اور اسے اپنے بچوں کی خوراک، علاج یا تعلیم میں سے کسی ایک کو قربان کرنا پڑتا ہے۔

ایک عام شہری کی زندگی: جدوجہد کی تصویر

کراچی کے ایک رکشہ ڈرائیور کی زندگی اس بحران کی واضح مثال ہے۔ اس کی روزی کا دارومدار مکمل طور پر اس کی گاڑی پر ہے، مگر جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی روزانہ کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر وہ کرایہ بڑھاتا ہے تو مسافر کم ہو جاتے ہیں، اور اگر کرایہ نہیں بڑھاتا تو اس کے لیے گھر کا خرچ چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں وہ ایک ایسے دائرے میں پھنس جاتا ہے جہاں ہر فیصلہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔

اسی طرح لاہور میں ایک اسکول ٹیچر یا اسلام آباد میں ایک سرکاری ملازم کی زندگی بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہوتی ہے۔ محدود تنخواہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے درمیان وہ ہر مہینے یہ طے کرنے پر مجبور ہوتا ہے کہ کون سا خرچ مؤخر کیا جائے اور کس ضرورت کو نظر انداز کیا جائے۔

خوراک اور تعلیم: سب سے بڑی قربانیاں

معاشی بحران کا سب سے گہرا اثر خوراک اور تعلیم پر پڑتا ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے گھر کے دسترخوان پر اس کا اثر نظر آتا ہے۔ گوشت آہستہ آہستہ غائب ہو جاتا ہے، پھر دالیں بھی کم ہو جاتی ہیں، اور بعض اوقات ایک وقت کا کھانا بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہ صرف بھوک کا مسئلہ نہیں، بلکہ غذائی قلت کا آغاز ہے، جو بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے۔

تعلیم بھی اسی طرح متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے والدین کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آیا وہ بچوں کی اسکول فیس ادا کریں یا گھر کے اخراجات پورے کریں۔ یہ فیصلہ وقتی نہیں، بلکہ ایک نسل کے مستقبل کو متاثر کرنے والا ہوتا ہے، کیونکہ تعلیم میں رکاوٹ آنے کا مطلب مواقع کا ہمیشہ کے لیے کم ہو جانا ہے۔

خلیجی ممالک اور پاکستان: ایک گہرا تعلق

متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر پاکستان کے لیے صرف تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ معاشی سہارا بھی ہیں۔ لاکھوں پاکستانی ان ممالک میں کام کرتے ہیں اور اپنی کمائی کا بڑا حصہ وطن بھیجتے ہیں، جس سے پاکستان کی معیشت کو استحکام ملتا ہے۔

لیکن جب دبئی اور دوحا جیسے عالمی مراکز متاثر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچتے ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں، نوکریوں کے مواقع کم ہو جاتے ہیں اور ترسیلاتِ زر میں کمی آتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پاکستان کی معیشت مزید دباؤ میں آ جاتی ہے اور عام شہری کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔

عالمی اثرات: ایک جڑی ہوئی دنیا

یہ بحران صرف پاکستان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ جرمنی اور فرانس جیسے صنعتی ممالک میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ فیکٹریوں کی پیداوار کو متاثر کرتا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سیاسی اور معاشی دباؤ کو بڑھاتا ہے۔

یہ تمام عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ان کا مجموعی اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

پاکستان کے لیے راستہ: بحران سے نکلنے کی حکمتِ عملی

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس صورتحال کو محض ایک عارضی بحران کے طور پر نہ دیکھے، بلکہ اسے ایک وارننگ سمجھے۔ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اگر ملک شمسی اور ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں کو سنجیدگی سے اپنائے تو نہ صرف درآمدی تیل پر انحصار کم ہو سکتا ہے بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح زرعی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج اور مناسب حکومتی معاونت کے ذریعے پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس سے خوراک کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مقامی سطح پر غذائی ذخائر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ ہنگامی حالات میں عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

پاکستان کو اپنے تجارتی روابط کو بھی متنوع بنانا ہوگا۔ صرف ایک یا دو خطوں پر انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے وسطی ایشیا اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ایک ایسا معاشی استحکام فنڈ قائم کرنا چاہیے جو بحران کے وقت عوام کو سہارا دے سکے۔

عوام کے لیے راستہ: ذمہ داری اور شعور

یہ بحران صرف حکومتی پالیسیوں سے حل نہیں ہوگا بلکہ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ توانائی کے استعمال میں احتیاط برتنا نہایت ضروری ہے۔ غیر ضروری بجلی اور ایندھن کا استعمال کم کرنا نہ صرف ذاتی اخراجات کو کم کرتا ہے بلکہ قومی سطح پر بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

مالی نظم و ضبط اپنانا بھی اہم ہے۔ غیر ضروری اخراجات کو کم کر کے اور تھوڑی بہت بچت کو یقینی بنا کر مشکل وقت میں خود کو سہارا دیا جا سکتا ہے۔ مقامی مصنوعات کا استعمال معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ اس سے ملکی صنعت کو فروغ ملتا ہے۔

سماجی سطح پر ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی نہایت اہم ہے۔ مشکل وقت میں کمیونٹی سپورٹ ایک مضبوط ڈھال ثابت ہو سکتی ہے، جو نہ صرف معاشی بلکہ ذہنی دباؤ کو بھی کم کرتی ہے۔

ذہنی دباؤ: ایک خاموش بحران

معاشی مشکلات کا اثر صرف جیب تک محدود نہیں رہتا بلکہ ذہنوں پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ مسلسل مہنگائی، بے یقینی اور مستقبل کا خوف انسان کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں کوئی آواز نہیں ہوتی مگر اس کے اثرات نہایت گہرے ہوتے ہیں۔

آج کی دنیا ہمیں یہ سکھا رہی ہے کہ بقا صرف طاقت میں نہیں بلکہ تیاری، حکمتِ عملی اور اجتماعی شعور میں ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کی تپش اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے گھروں تک ضرور پہنچتی ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان نہ صرف اس بحران کا سامنا کرے بلکہ اس سے سیکھ کر ایک مضبوط، خود کفیل اور مزاحمتی معیشت کی بنیاد رکھے۔ اور عوام بھی اس تبدیلی کا حصہ بنیں، کیونکہ اس بدلتی ہوئی دنیا میں کامیابی صرف انہی قوموں کا مقدر بنتی ہے جو حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران مذاکرات: نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان یا ترکیہ بھیجنے کی قیاس آرائیاں

قاسم خان کا جنیوا میں بی این ایم رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب، پاکستان مخالف حلقوں سے روابط پر سوالات

ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے، امریکا کا انتباہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے 14 اور 15 مئی کو دورہ چین کا اعلان، صدر شی جن پنگ سے ملاقات طے

ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو صدارتی سائنس و ٹیکنالوجی کونسل میں شامل کرلیا

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ