مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال تیزی سے ایک بڑے عالمی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سعودی عرب جس نے اس جنگ میں کمال برد باری اور صبر کی انتہا کی ہے، اس کی جانب سے ایرانی فوجی اتاشی سمیت اہم سفارتکاروں کو بے دخل کرنا بظاہر ایک سفارتی قدم ہے، مگر اس کے اثرات اب علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سیاست کو متاثر کر رہے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ سعودی عرب کا یہ فیصلہ دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ اس کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے وہ اپنی خود مختاری کے لئے بہت کچھ کر سکتا جس کا ایران تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ہی ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے، یعنی عالمی طاقتوں کی تقسیم۔ مغربی دنیا، جو ماضی میں اکثر امریکہ کے ساتھ کھڑی نظر آتی تھی، اس بار واضح طور پر منقسم دکھائی دے رہی ہے۔
یورپ میں صورت حال خاصی مختلف ہے۔ سپین نے نہ صرف ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جنگ میں شامل ہونے سے انکار کیا، بلکہ عراق سے اپنی افواج واپس بلانے کا بھی اعلان کر دیا۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپی ممالک اب مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں براہِ راست مداخلت سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔
اسی طرح جرمنی نے NATO کی نمائندگی کرتے ہوئے امریکی دھمکیوں پر محتاط ردعمل دیا ہے۔ جرمنی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی عسکری کارروائی سے پہلے سفارتی حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ یہ بیان دراصل امریکہ کے یک طرفہ فیصلوں پر ایک نرم مگر اہم تنقید سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب یونائیٹڈ کنڈم نے بھی ایران کے خلاف براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ برطانیہ کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حتیٰ کہ امریکہ کے قریبی اتحادی بھی اس وقت محتاط پالیسی اپنا رہے ہیں۔
یہ اختلاف صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں رہا، بلکہ عوامی سطح پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ خود یونائیٹڈ سٹیٹس میں صدر کے جنگی فیصلوں کے خلاف احتجاج شروع ہو چکے ہیں۔ عوامی حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایک نئی جنگ نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی امن کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ احتجاجی لہر اب یورپ، کنیڈا، اسٹریلیا، خلیجی ممالک اور ایشیا تک پھیل رہی ہے۔ دنیا بھر میں عوام اور تجزیہ کار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات ایک عالمی جنگ کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چائنا اور رشیا اب تک محتاط خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، مگر اگر انہوں نے کھل کر کسی ایک فریق کی حمایت کی تو عالمی طاقتوں کی براہِ راست ٹکر ناگزیر ہو سکتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں ایک علاقائی تنازعہ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں ایران کا ردعمل انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر ایران نے سخت عسکری جواب دیا تو سعودی عرب اور اس کے اتحادی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دوسری جانب اگر سفارتی راستہ اختیار کیا گیا تو ممکن ہے کہ کشیدگی کو کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ بحران صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے تصادم کی بنیاد بن سکتا ہے۔ دنیا ایک بار پھر ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پورے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔
میرے نزدیک اب سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دنیا اسے روکنے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














