امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) اور جنوبی کوریا کی اسپیس ایجنسی نے سورج اور زمین کے لارنج پوائنٹ(ایل 4) کی دریافت اور ڈیپ اسپیس تحقیق میں مشترکہ اقدامات کے لیے معاہدہ کیا ہے۔
جنوری 2024 میں دونوں اداروں نے تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد ایل4 پوائنٹ کی جانچ، خلائی موسم کی نگرانی اور مستقبل کی ڈیپ اسپیس مشنز کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑحیں: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن روانگی کے لیے ناسا مشن تیار
لارنج پوائنٹس ایل1 سے ایل5 تک وہ مقامات ہیں جہاں زمین اور سورج کی کشش ثقل اور کسی اسپیس کرافٹ کی مدار حرکت متوازن رہتی ہے، جس سے کم ایندھن کے ساتھ لمبے وقت کے لیے مشاہدات کیے جاسکتے ہیں۔ سائنسدان ایل4 کو سورج کی سرگرمی سے پیدا ہونے والے خلائی تابکاری کے مطالعے کے لیے موزوں مقام قرار دے رہے ہیں۔
موجودہ مشاہداتی مقامات ایل1 (سورج اور زمین کے درمیان) اور ایل5 (زمین کے دور دراز جانب) کے ساتھ ایل4 سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے خلائی موسم کی پیش گوئی کی درستگی میں بہتری آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وی نیوز جارہا ہے مشتری کے چاند پر، آپ بھی ناسا مشن میں شامل ہونا چاہیں گے؟
جنوبی کوریا کی اسپیس ایجنسی کے نائب ایڈمنسٹریٹر نو کیونگ وون کے مطابق کاسا کے قیام کے بعد سے امریکا اور کوریا کی مشترکہ تحقیق میں تیزی آئی ہے۔ ایل4 مشن کے تصور سے لے کر ڈیپ اسپیس آپٹیکل کمیونیکیشن تک پروگرام میں پیش رفت ہوئی ہے۔
مشترکہ مشن کے کلیدی شعبے خلائی موسم، خلائی تابکاری، اور خلائی آپٹیکل کمیونیکیشن پر مرکوز ہوں گے، اور طویل مدتی منصوبے میں ایل4 ہیلیوسفیریک آبزرویٹری کے قیام اور اس کے مشاہداتی آلات بھی شامل ہوں گے۔














