دنیا بھر میں سڑکوں کی تعمیر کو معاشی ترقی میں بنیادی اکائی کی حیثیت حاصل ہے، جبکہ توانائی بھی ترقی کے اہم ستونوں میں شمار ہوتی ہے۔ پاکستان جیسی دنیا کی پانچویں بڑی آبادی والے ملک میں موٹر ویز کی تعمیر ترقی کے لیے ایک درست انتخاب ثابت ہوئی ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ منظم معیشت کے قیام کے لیے انفراسٹرکچر کی مختلف جہتوں میں اضافہ اور ان کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔
موٹر ویز کے ساتھ ساتھ فریٹ کوریڈورز بھی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ صنعتی پیداوار اور تجارتی سامان کو کم لاگت، محفوظ اور تیز رفتار طریقے سے بندرگاہوں تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں، جس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ممکن ہے، بلکہ سپلائی چین کی کارکردگی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی برآمدات پر مبنی ترقی کی پالیسی میں روڈ اور ریل فریٹ کوریڈورز اہم معاون ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے کم وقت اور کم لاگت میں زیادہ نقل و حمل ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اس سے بڑے اور چھوٹے کاروباری شعبوں کو عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
تاہم، ماضی میں کئی انفراسٹرکچر منصوبے مربوط حکمت عملی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مؤثر عملدرآمد کی کمی کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی ایک جامع اور مربوط وژن کے تحت کی جائے۔
اسی سلسلے میں وزارتِ منصوبہ بندی اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان ڈسٹرکٹ اکنامک زونز کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس اقدام کے تحت ہر ضلع میں مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے نجی شعبے کی شراکت داری سے خصوصی زونز قائم کرنے کا ارادہ ہے۔
ان زونز میں ویلیو ایڈیشن کے تمام مراحل—جیسے مینوفیکچرنگ، پیکنگ، مارکیٹنگ، ای کامرس، مالی معاونت اور تربیت—ایک ہی جگہ پر دستیاب ہوں گے، جس سے کاروباری افراد کو سہولت اور فوری رسائی میسر آئے گی۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد معیشت کو بڑے شہروں اور صنعتی مراکز سے نکال کر ضلعی سطح تک متحرک کرنا ہے، تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے ذریعے پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔ ہر ضلع کی مخصوص مصنوعات، جیسے زرعی پیداوار، ہینڈی کرافٹس اور دیگر مقامی صنعتیں، ویلیو ایڈیشن کے ذریعے نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط بنا سکتی ہیں بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کا دائرہ وسیع ہوگا۔
اگر ان تمام اضلاع کو بڑے صنعتی زونز اور بندرگاہوں کے ساتھ روڈ اور ریل فریٹ کوریڈورز کے ذریعے منسلک کیا جائے، اور ساتھ ہی جدید فائبر آپٹکس نیٹ ورک کے ذریعے لاجسٹکس کو ڈیجیٹائز کر دیا جائے، تو سپلائی چین، ای کامرس اور مالیاتی خدمات پر مشتمل ایک مربوط اکنامک نیٹ ورک تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہ نظام پاکستان کی معیشت کو زیادہ مضبوط، مستحکم اور عالمی سطح پر مسابقتی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اگر ان تجاویز پر مؤثر عملدرآمد، شفافیت اور پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے تو اکنامک نیٹ ورک ماڈل پاکستان کے لیے منظم معیشت کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی مربوط حکمت عملی مستقبل میں پاکستان کو ایک مضبوط اور پائیدار معاشی نظام کی جانب لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














