ایران کی جانب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کو ماہرین نے ایک خطرناک اور مہلک رجحان قرار دیا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے خلیجی خطے میں مسلسل جارحانہ کارروائیاں کیں، جن میں ہزاروں میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں محض ردعمل نہیں بلکہ خطے کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی ایک منظم کوشش ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں 6400 سے زیادہ حملے کیے گئے
اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں 6400 سے زیادہ حملے کیے گئے، جن میں 2600 سے زیادہ میزائل اور قریباً 3900 ڈرون شامل ہیں، جو دفاع کے بجائے خوف اور دباؤ پیدا کرنے کی حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات کو سب سے زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، اردن، عراق، عمان اور قبرص بھی ان حملوں کی زد میں آئے، حالانکہ یہ ممالک اس تنازع کا براہ راست حصہ نہیں تھے۔
سعودی عرب پر 1200 سے زیادہ حملے کیے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کی پالیسی کشیدگی کو مزید بڑھانے کی جانب مائل ہے۔
جنگی حکمت عملی اور اثرات
ماہرین کے مطابق ڈرون حملوں کا زیادہ استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران ایک ایسی حکمت عملی اپنا رہا ہے جس کے ذریعے فضائی دفاعی نظام کو ناکام بنا کر شہری آبادی میں عدم تحفظ پیدا کیا جا سکے۔
مزید برآں، حملوں کا رخ خلیجی معیشتوں اور اہم مراکز کی جانب ہے، جس کا مقصد دباؤ ڈالنا اور خوف پھیلانا ہے، نہ کہ کوئی واضح فوجی ہدف حاصل کرنا۔
عالمی سطح پر خدشات
ان حملوں کے باعث انفراسٹرکچر، شہروں اور معاشی مراکز کو شدید خطرات لاحق ہیں، جس سے عالمی توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران کی حکمت عملی پورے مشرقِ وسطیٰ کو وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے، ماہرین
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی یہ حکمت عملی پورے مشرقِ وسطیٰ کو وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے، جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال کسی محدود تنازع یا مزاحمت کا حصہ نہیں بلکہ خلیجی اور عرب دنیا کے خلاف ایک منظم اور ریاستی سطح پر کی جانے والی جارحیت کی عکاسی کرتی ہے۔














