نئے گورنر سندھ نہال ہاشمی کی تقرری کے فوری بعد مسلم لیگ (ن) سندھ کی قیادت سے ان کی ایک غیر متوقع ملاقات میں پیدا ہونے والی مبینہ تلخی اور اختلافات کی باز گشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس معاملے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق نہال ہاشمی جب 13 مارچ کو گورنر سندھ کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے اے ڈی سی خرم بھٹی کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر بشیر میمن کے گھر اچانک گئے تو بشیر میمن نے اس پر ناخوشگوار حیرت کا اظہار کیا کیوں کہ وہ ان کے آرام کا وقت تھا اور گورنر بغیر شیڈول یا پیشگی اطلاع کے وہاں گئے تھے۔
مزید پڑھیں: نہال ہاشمی کی بطور گورنر سندھ تعیناتی، سیاست میں کیا تبدیلی آئے گی؟
اس ملاقات کے موقع پر وہاں موجود مختلف افراد کے مطابق وہاں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور مبینہ طور پر بشیر میمن نے گورنر سندھ کو ایک تھپکی یا تھپڑ لگایا۔ جس کے بعد گورنر کے حامیوں نے اس پر اعتراض کیا۔
سینیئر صحافی حمید سومرو جو اس معاملے سے آگاہی رکھتے ہیں، نے وی نیوز کو بتایا کہ اس واقعے کو مختلف انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بشیر میمن کی عادت ہے کہ وہ ماتحت افراد کو تھپکیاں دیتے رہتے ہیں، تاہم اس بار گورنر کے اے ڈی سی خرم بھٹی کو دی گئی تھپکی کچھ زیادہ شدت اختیار کر گئی، جس پر وہاں موجود افراد نے اسے تھپڑ قرار دیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ خود بشیر میمن نے اس تاثر کی مکمل تردید نہیں کی بلکہ ایک نجی گفتگو میں کہا کہ انہوں نے صرف تھپکی دی تھی۔
ذرائع کے مطابق بشیر میمن نے ملاقات کے دوران اس بات پر بھی ناراضی کا اظہار کیا کہ گورنر سندھ بغیر اطلاع ایسے وقت پر پہنچے جب مہمان نوازی ممکن نہیں تھی، اور اگر پیشگی اطلاع دی جاتی تو یہ ملاقات بہتر ماحول میں ہو سکتی تھی۔
مسلم لیگ ن کے بعض ذرائع نے بھی ابتدا میں اس ملاقات کو ناخوشگوار قرار دیا تاہم اب ان کی طرف سے اختلافات کے تاثر کی نفی کی جا رہی ہے۔
حمید سومرو کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے دوران کچھ کشیدگی پیدا ہوئی اور یہ معاملہ پھر اسلام آباد تک پہنچا جس کے بعد پارٹی کی جانب سے اس کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس کا پس منظر نہال ہاشمی اور بشیر میمن دونوں کا گورنر کے عہدے کا امیدوار ہونا ہے۔
سینیئر تجزیہ کار ارمان صابر کے مطابق بشیر میمن گورنر سندھ کے لیے ایک مضبوط امیدوار تھے اور ان کی سروس اور مزاج کے باعث اس پر سنجیدگی سے غور کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سندھ میں گورنر کے انتخاب کے حوالے سے ایک غیر تحریری توازن بھی دیکھا جاتا ہے، جس کے تحت اگر وزیر اعلیٰ کراچی سے نہ ہو تو گورنر کا تعلق کراچی سے رکھا جاتا ہے، اور اس بار قرعہ نہال ہاشمی کے نام نکلا۔
مزید پڑھیں:گورنر نہال ہاشمی سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی ملاقات، صوبے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
ذرائع کا کہنا ہے کہ بشیر میمن کے نام کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ان کے ماضی کے تعلقات بھی رہے، جن میں تلخی پائی جاتی ہے۔ اگرچہ بعض حلقوں کی جانب سے اس فاصلے کو کم کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں، تاہم یہ کوششیں اس حد تک کامیاب نہ ہو سکیں کہ انہیں گورنر سندھ مقرر کیا جا سکے۔
باخبر ذرائع کے مطابق مستقبل میں بشیر میمن اور شاہ محمد شاہ دونوں کو مختلف صوبوں میں گورنر کے عہدوں کے لیے دوبارہ زیر غور لائے جانے کا امکان موجود ہے، تاہم فی الحال سندھ میں گورنر کا منصب نہال ہاشمی کے پاس ہے، جن کی تقرری کو پارٹی کے لیے ان کی طویل خدمات اور وفاداری کا اعتراف بھی قرار دیا جا رہا ہے۔














