ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے غیر سفارتی ریمارکس ان کے اضطراب اور بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں، پاکستان اس طرح کے شور شرابے (megaphone theatrics) کو مسترد کرتا ہے۔
طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تمام فریقین کے ساتھ فعال سفارتی رابطے میں ہے، جبکہ شہباز شریف اس عمل کی قیادت کر رہے ہیں اور اسحاق ڈار بھی اس میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کی پاکستان کے ذریعے بلواسطہ بات چیت ہو رہی ہے، اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ پاکستان خلوص نیت کے ساتھ پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ ایک نازک صورتحال ہے جس میں رازداری ضروری ہے، جبکہ غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس پر تحفظات ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر مختلف ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے اور امن کے قیام کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب کو بھی اس معاملے میں ایک اہم فریق قرار دیا گیا۔
بھارت کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ سری نگر کی جامع مسجد کو سات سال سے بند رکھنا مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور اس رمضان و عید پر بھی اسے نہیں کھولا گیا۔ انہوں نے آسیہ اندرابی کو دی گئی سزا کی مذمت کرتے ہوئے بھارت سے تمام کشمیری سیاسی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور ایس جے شنکر کے بیانات کو غیر سفارتی قرار دیا۔
افغانستان سے متعلق گفتگو میں ترجمان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ’آپریشن غضب للحق‘ جاری ہے اور اس کا مقصد دہشتگرد عناصر کا خاتمہ ہے۔ افغان طالبان سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ امن اور مذاکرات کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی متحرک سفارتکاری: چین، ملائیشیا اور ترکیہ سے خطے کی صورتحال پر اہم گفتگو
ایران اور دیگر علاقائی معاملات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد امن کا قیام ہے اور سفارتکاری میں رکاوٹیں آنا معمول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے ایک محفوظ مقام ہے اور اس حوالے سے تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی، جبکہ افواہوں پر توجہ نہ دینے کا مشورہ دیا گیا۔
بنگلہ دیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ماضی کے معاملات پیچیدہ ہیں، تاہم بنگلہ دیش کے ساتھ مستقبل میں بہتر تعلقات کی امید ہے۔














