خلیج تنازعے میں متوازن کردار سے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ بہتر ہوئی ہے

جمعرات 26 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں سعودی سفیر جناب نواف بن سعید احمد المالکی کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔

ان کا اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ ان حملوں میں بے گناہ شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے موجودہ بحران کے حل کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کے مابین ثالثی: پاکستان کے نمایاں کردار پر بھارت میں ہنگامہ، کانگریس نے مودی حکومت کو دھو ڈالا

انہوں نے مزید اپنے ویڈیو پیغام میں پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کے ذمہ دارانہ موقف اور اس کے مسلسل اور دانشمندانہ سفارتی اقدامات کو سراہتے ہیں، جو بحران کو پرامن طریقوں سے حل کرنے کی کوششوں کا عکاس ہے اور جو علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے مثبت کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔‘

پاکستان میں سعودی سفیر کی جانب سے دیا گیا پیغام یقینا پاکستان کے حق میں ایک بڑا اور اہم پیغام ہے۔ پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق سفیر خالد مسعود کے مطابق پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی کا بیان پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی واضح توثیق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بیان نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف ہے بلکہ اس سے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ بھی مضبوط ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی حمایت پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ تنازع میں شامل فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کرے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرے، تاکہ ایک دیرپا اور پُرامن حل تک پہنچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں قابل تعریف ہیں، چین

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کا غیر جانبدار اور اصولی موقف ہی اس کی اصل طاقت ہے، جو اسے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔

’ایران جنگ کے آغاز سے ہی پاکستان کا مثبت اور تعمیری کردار عالمی سطح پر بھرپور انداز میں سراہا جارہا ہے‘

سابق سفیر عبدالباسط نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے آغاز سے ہی پاکستان کا مثبت اور تعمیری کردار عالمی سطح پر بھرپور انداز میں سراہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مضبوط اور متحرک سفارت کاری خاص طور پر خلیجی ممالک کو زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکمت عملی اس لیے بھی نہایت اہم تھی تاکہ اسرائیل کی جانب سے جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی ممکنہ کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ عبدالباسط کے مطابق پاکستان نے نہایت دانشمندی کے ساتھ خطے میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب پاکستان اسی تسلسل کے ساتھ تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے سرگرم ہے، جو ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔

’اس طرح کا مثبت اور متوازن کردار نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط بناتا ہے‘

ان کے مطابق اس طرح کا مثبت اور متوازن کردار نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط بناتا ہے بلکہ ملک کے لیے سفارتی سطح پر نئے مواقع اور امکانات بھی پیدا کرتا ہے، جو مستقبل میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی کردار کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان متحرک، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ٹرمپ سے رابطہ: فنانشل ٹائمز کی رپورٹ

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بین الاقوامی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار فیضان ریاض کے مطابق ایران سے متعلقہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے غیر معمولی بصیرت، توازن اور مؤثر حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر فوری اور متوازن ردِعمل دیا بلکہ اپنی فعال سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو محدود رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان کی پالیسی کا سب سے نمایاں پہلو اس کی ’اسٹریٹجک نیوٹرلٹی‘ ہے

فیضان ریاض کے مطابق پاکستان کی پالیسی کا سب سے نمایاں پہلو اس کی ’اسٹریٹجک نیوٹرلٹی‘ ہے، جس کے تحت وہ کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہونے کے بجائے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک سمیت دیگر علاقائی قوتیں پاکستان کے موقف کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں اور اس کی سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے بروقت اور مؤثر سفارتی روابط کے ذریعے نہ صرف ممکنہ علاقائی پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد دی بلکہ عالمی برادری کو یہ واضح پیغام بھی دیا کہ وہ تصادم کے بجائے مکالمے، مفاہمت اور پائیدار امن کا حامی ہے۔ ان کے مطابق اس تناظر میں پاکستان ایک ’اسٹیبلائزر‘ کے طور پر ابھرا ہے، جو فوری کشیدگی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل المدتی استحکام کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔

فیضان ریاض کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اسی تسلسل اور دانشمندانہ حکمتِ عملی کے ساتھ اپنی سفارت کاری جاری رکھتا ہے تو وہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں ایک مؤثر ثالث کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، باوقار اور بااثر ریاست کے طور پر اپنی پہچان کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟