وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ایک ایسے وقت میں اپنی ہی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی گروپنگ کا شکار نظر آرہے ہیں جب وہ بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر اسٹریٹ مہم چلا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دستِ خاص اور ان کے آبائی علاقے پی کے 71 سے منتخب پی ٹی آئی کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی عبدالغنی خان آفریدی نے سہیل آفریدی کے خلاف اندرونی سازشوں کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا تحریک انصاف پاکستان کی فالٹ لائن بن چکی ہے؟
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے خلاف سازش ہو رہی ہے لیکن سازش کرنے والے کامیاب نہیں ہوں گے۔ غنی آفریدی نے سہیل آفریدی کے خلاف سازش کو قبائلی روایت اور قبائل کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سازش کرنے والے کون ہیں، البتہ اتنا ضرور کہا کہ سازش پارٹی کے اندر ہی ہو رہی ہے۔
کیا سہیل آفریدی پارٹی گروپنگ کا شکار ہیں؟
اگرچہ پی ٹی آئی پارٹی کے اندر گروپنگ اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کی تردید کرتی آئی ہے، تاہم پی ٹی آئی گزشتہ کئی سالوں سے سخت اندرونی گروپنگ کا شکار ہے۔ جبکہ عمران خان کے جیل جانے کے بعد مخالف گروپس ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ایک مرکزی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں اس وقت کرسی کی لڑائی جاری ہے، جس سے حکومتی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی میں کئی گروپس ہیں اور زیادہ تر خیبر پختونخوا میں ہی ہیں۔
‘عاطف خان، اسد قیصر، ہزارہ ڈویژن، علی امین کے گروپس پہلے ہی تھے، اب مینا خان آفریدی نے بھی اپنا گروپ بنا لیا ہے۔’
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاندانہ گلزار کا علیمہ خان کے انٹرویو پر سخت ردعمل
انہوں نے مزید بتایا کہ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کے بعد اب ہر ایک کو لگنے لگا ہے کہ وہ بھی وزیراعلیٰ بن سکتا ہے۔ ‘کے پی اسمبلی میں پی ٹی آئی کا ہر دوسرا رکن وزیراعلیٰ بننے کا خواہشمند ہے اور اس کے لیے کوششوں میں لگا ہوا ہے۔’
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پی ٹی آئی کے کچھ گروپس چاہتے ہیں کہ سہیل آفریدی کو ہٹایا جائے، جس کے لیے عمران خان کی بہنوں تک باتیں پہنچائی جا رہی ہیں تاکہ عمران خان تک سہیل آفریدی کے خلاف خبریں پہنچ سکیں۔
پی ٹی آئی میں اس وقت کتنے گروپس ہیں اور کون سے سہیل آفریدی کے خلاف ہیں؟
پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق پارٹی شروع دن سے اندرونی گروپنگ کا شکار رہی ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اہم رہنما جیلوں میں ہیں، جبکہ نئے آنے والے چہروں نے بھی گروپس بنا لیے ہیں۔
‘اگر دیکھا جائے تو اس وقت پی ٹی آئی میں کئی گروپس ہیں۔ عاطف خان گروپ، علی امین، سہیل آفریدی اور تیمور جھگڑا گروپس مضبوط ہیں، جبکہ دیگر کئی چھوٹے گروپس بھی موجود ہیں۔’
انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کو اپنی کابینہ کے اراکین کی جانب سے بھی گروپنگ کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیاں و بیانات، کیا وہ ’گڈ بوائے‘ بن گئے؟
‘بہت سے اراکین کو لگتا ہے کہ اگر ایک عام ایم پی اے سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بن سکتا ہے تو وہ بھی بن سکتے ہیں، جس کے لیے مبینہ طور پر لابنگ بھی کی جا رہی ہے۔’
صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کے خلاف پارٹی میں سخت گروپنگ موجود ہے۔ نوجوان صحافی انور زیب کے مطابق پی ٹی آئی میں گروپنگ اور سازش کوئی نئی بات نہیں بلکہ شروع دن سے ایسا ہوتا آ رہا ہے۔
‘پی ٹی آئی میں گروپس موجود ہیں۔ علی امین کے خلاف بھی تھے اور اب سہیل آفریدی کے خلاف بھی ہیں۔’
انور زیب نے بتایا کہ کچھ گروپس سہیل آفریدی کے ساتھ ہیں جبکہ کچھ مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی الزام لگاتے ہیں کہ علی امین گروپ ان کے خلاف ہے جبکہ جنید اکبر گروپ ان کے ساتھ ہے۔
‘پی ٹی آئی کے ایم پی اے غنی خان آفریدی نے کھل کر بات کی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی اندرونی گروپنگ کا شکار ہیں۔’
گروپنگ اور سازش کے باعث کابینہ کی توسیع تاخیر کا شکار
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کابینہ میں توسیع کرنا چاہتے تھے اور نام بھی فائنل کر لیے گئے تھے، لیکن اندرونی اختلافات کے باعث یہ عمل تاخیر کا شکار ہو گیا۔ صحافی انور زیب کے مطابق مختلف گروپس اپنے اپنے افراد کو کابینہ میں شامل کروانا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے سہیل آفریدی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیکر بابر سلیم کو کرپشن الزامات میں کلین چٹ دینے پر پی ٹی آئی کی احتساب کمیٹی میں اختلافات
انہوں نے مزید بتایا کہ جب سہیل آفریدی نے عمران خان ریلیف فورس بنانے کا اعلان کیا تو پارٹی کے اندر اس کی مخالفت ہوئی اور بیرسٹر گوہر کھل کر سامنے آئے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر بھی سہیل آفریدی سے خوش نہیں ہیں اور ان کا جھکاؤ علی امین گنڈاپور کی جانب ہے، جبکہ وقاص اکرم شیخ بھی سہیل آفریدی کے آنے کے بعد سے منظر عام سے غائب ہیں۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کے ساتھ مراد سعید گروپ بدستور موجود ہے، جس کی وجہ سے ان کی پوزیشن قدرے مضبوط نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے کچھ اہم مرکزی رہنما سہیل آفریدی کی مزاحمتی سیاست کے مخالف ہیں اور اسی بنیاد پر وہ سہیل مخالف گروپس کا ساتھ دے رہے ہیں۔
پارٹی اندرونی گروپنگ اور سازش پر پی ٹی آئی کا کیا مؤقف ہے؟
پاکستان تحریک انصاف پارٹی میں اندرونی گروپنگ اور مبینہ سازش کی تردید کرتی ہے۔ ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات خیبر پختونخوا اکرام کٹھانہ کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی میں کوئی گروپنگ نہیں ہے اور نہ ہی سہیل آفریدی کے خلاف کوئی اندرونی سازش ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو عمران خان نے وزیراعلیٰ بنایا ہے اور عمران خان کا فیصلہ سب کو منظور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ حلقے بے بنیاد افواہیں پھیلا کر عمران خان کی رہائی مہم کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس سے سہیل آفریدی کی اسٹریٹ مہم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
’ہم سب ایک پیج پر ہیں اور عمران خان کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘














