پاکستان کی سیاست میں انتظامی امور اور آئینی ترامیم کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور ایم کیو ایم پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کے درمیان کراچی میں ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
ملاقات میں کون کون شریک تھا؟
وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرنے والے ایم کیو ایم کے وفد کی سربراہی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی، جبکہ وفد میں کامران ٹیسوری، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار، امین الحق اور سینیٹر فیصل سبزواری شامل تھے۔
حکومتی ٹیم میں اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ جیسے اہم وزراء موجود تھے۔ اس ملاقات کا مرکز ملکی سیاسی صورتحال، کراچی کے ترقیاتی منصوبے اور بلدیاتی نظام میں اصلاحات تھیں۔
ایم کیو ایم کا بڑا مطالبہ کیا تھا؟
ملاقات میں ایم کیو ایم کی جانب سے 28 ویں آئینی ترمیم لانے کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے ایم کیو ایم پاکستان کا 28ویں ترمیم کے ذریعے عوام کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے موقف اختیار کیا کہ مقامی حکومتوں (لوکل باڈیز) کو بااختیار بنانے کے لیے ان کی مجوزہ ترامیم کو آئین کا حصہ بنایا جائے۔ ایم کیو ایم کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ آرٹیکل 140-A کو مزید واضح اور مضبوط کیا جائے تاکہ میئر اور مقامی نمائندوں کو مالی و انتظامی اختیارات مل سکیں، جس کا براہِ راست اثر کراچی کی موجودہ بلدیاتی قیادت پر پڑ سکتا ہے۔
گورنر سندھ کی تبدیلی: ایم کیو ایم کے تحفظات پر وزیراعظم نے کیا کہا؟
ملاقات کے دوران سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی اچانک تبدیلی اور نہال ہاشمی کی بطور نئے گورنر تعیناتی پر ایم کیو ایم نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے واضح کیا کہ کامران ٹیسوری ایک فعال گورنر تھے جنہوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھولے اور کئی فلاحی منصوبے شروع کیے۔
یہ بھی پڑھیے 28ویں آئینی ترمیم ایم کیو ایم پاکستان کے لیے سیاسی بقا کا معاملہ کیوں؟
وزیراعظم شہباز شریف نے کامران ٹیسوری کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں انتہائی فعال شخصیت قرار دیا، تاہم انہوں نے انکشاف کیا کہ گورنر سندھ کی تبدیلی ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ وزیراعظم نے نئے گورنر نہال ہاشمی کو بھی ہدایت کی کہ ایم کیو ایم کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔
اگلی ملاقات کی اہمیت
وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے مطالبات پر غور کے لیے آئندہ ہفتے ایک اور ملاقات طے کر دی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ بلدیاتی اختیارات اور 28 ویں ترمیم پر حکومت کسی بڑے فیصلے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔














