بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف اپنے ہی ملک کے اندر بھی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ بھارتی ماہرین اپنے ہی وزیر خارجہ کے بیان پر برس پڑے۔
جے شنکر کے پاکستان مخالف غیر مہذب بیان پر بھارت میں کڑی تنقید ہو رہی ہے، کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیرا نے مودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کی سفارتی زبان اور پالیسی پر سوالات اٹھادیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے آنے والا جہاز دراصل بھارت کا مہمان تھا اور ایک مشترکہ بحری مشق کا حصہ تھا جہاں صرف غیر مسلح (نہتے) جہازوں کو شرکت کی اجازت تھی۔ ان کو مار دیا گیا۔
It is shameful and disturbing that Pakistan is mediating between Iran and the US—where do we stand?
When 'Papa' was brokering a halt to the Russia-Ukraine war, wasn't he acting as a 'broker' then?
When it suits them to play the broker, they do so quite happily.
— @Pawankhera… pic.twitter.com/6GNcjurbGF
— Asma (@asmatasleem13) March 26, 2026
ان کے مطابق ایسے جہاز کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ بین الاقوامی اصولوں اور سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ ایک سنگین اور ناقابلِ جواز اقدام تھا۔
پون کھیرا نے مزید الزام عائد کیا کہ اس واقعے کے بعد بھارتی حکومت نے ایران کے ایک اور جہاز کو روک کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایران کو بلیک میل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے مزید دو جہاز گزارنے کی اجازت دے جو کہ ایک غیر مناسب اور جارحانہ سفارتی رویہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ یوکرین میں ’پاپا‘ واررکوا رہے تھے تب یہ دلال تھے؟ جب دلال بننا ہوتا ہے تب یہ جاتے ہیں پھر کہتے ہیں ہم دلال نہیں ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے؟














