بھارت میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ شادی شدہ شخص کا بالغ خاتون کے ساتھ ’لیو ان ریلیشن‘ قائم کرنا جرم نہیں ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ سماجی اخلاقیات کو قانون کے عمل سے علیحدہ رکھا جانا چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ جب تک قانون کے تحت کوئی جرم ثابت نہ ہو، کسی بھی فرد کو ’لیو ان ریلیشن‘ کی وجہ سے مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان ایم ایم اے فائٹر کے ساتھ ’لیو ان ریلیشن‘ میں ہوں، جیکی شروف کی بیٹی کا اعتراف
یہ فیصلہ ایک فوجداری درخواست پر سماعت کے دوران سامنے آیا جس میں ایک جوڑے نے پولیس کو درج کیے گئے مقدمے کو ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ خاتون اپنی مرضی سے مرد کے ساتھ رہ رہی ہیں اور وہ بالغ ہیں۔ تاہم خاتون کے خاندان نے اس تعلق کی مخالفت کی اور اسے ’غیر اخلاقی‘ قرار دیتے ہوئے موت کی دھمکیاں دی تھیں، جس کے نتیجے میں جوڑے نے قتل کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان ’لیو ان ریلیشن شپس‘ پُرتشدد جرائم کو بڑھاوا دے رہے ہیں؟
عدالت نے اس دوران یہ بھی کہا کہ خاتون نے شاہجہاں پور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے پاس شکایت درج کرائی تھی لیکن پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ جوڑے کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اگر قانون کے تحت کوئی جرم نہیں بنتا تو سماجی رائے اور اخلاقیات کو عدالت کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کا کوئی حق نہیں۔














