اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عالمی مہم Earth Hour 2026 کے موقع پر ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں توانائی کے تحفظ کے اقدامات سختی سے نافذ رہیں گے اور روشنیوں کو 28 مارچ شام 8:30 بجے سے 9:30 بجے تک بند کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں توانائی کے تحفظ کے اقدامات
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ ارتھ آور محض ایک گھنٹے کے لیے روشنیوں کو بند کرنے کی علامت نہیں، بلکہ یہ زمین کی حفاظت کے لیے اجتماعی عزم کی نمائندگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سال ارتھ آور کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کی غیر ضروری روشنیوں اور برقی آلات کو ایک گھنٹے کے لیے بند کیا جاتا ہے تاکہ توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی شعور کو فروغ دیا جا سکے۔
ملکی ماحولیاتی چیلنجز اور ذمہ داری
اسپیکر نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ہے، لیکن ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے ملک مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کی ایاز صادق سے ملاقات، بین الصوبائی روابط پر تبادلہ خیال
انہوں نے زور دیا کہ ہوا کی آلودگی میں کمی، مضر گیسوں کے اخراج میں کمی، قدرتی وسائل کا پائیدار استعمال اور ماحولیاتی ذمہ داری کے فروغ کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
شہریوں اور اداروں کے لیے اپیل
اسپیکر نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ ماحولیاتی تحفظ میں فعال کردار ادا کریں اور روزمرہ زندگی میں ماحول دوست رویے اپنائیں۔ انہوں نے World Wide Fund for Nature – Pakistan (WWF-Pakistan) کے ماحولیاتی تحفظ کے لیے خدمات کو سراہا اور کہا کہ اتحاد اور اجتماعی کوشش کے ذریعے سبز اور محفوظ زمین کا وژن حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ڈپٹی اسپیکر کا پیغام
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفٰی شاہ نے کہا کہ ارتھ آور میں شرکت ماحولیاتی تحفظ کے عزم کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے چھوٹے اقدامات، جیسے توانائی کی بچت اور برقی آلات کا محتاط استعمال، کے اجتماعی اثرات پر زور دیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ بھرپور حصہ لے کر صاف، سبز اور محفوظ مستقبل کے لیے عملی اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں:قومی وسائل کا دانشمندانہ استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جائے گا، اسپیکر ایاز صادق
اس موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس میں توانائی کی بچت اور ماحول دوست اقدامات کو ہر سطح پر فروغ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی، اور قومی سطح پر ماحولیات کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔














