حالیہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف کے بعض اقدامات اور بیانات کو بعض حلقے ملکی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہیں، مختلف موقع پر پارٹی رہنماؤں یا پارٹی سے وابستہ لوگوں نے ایسے بیانات دیے ہیں کہ جن سے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد پارٹی کے اندر پاکستان کے لیے منفی رجحانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا، عمران خان سمیت پارٹی قیادت کی جانب سے ایسے اقدامات اور بیانات سامنے آئے جن میں بعض اوقات ملک کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:تحریکِ انصاف کی پاکستان مخالف تقریریں اور جی ایس پی پلس معاملے پر قاسم خان اور سلیمان کی مہم
پی ٹی آئی حکومت ختم ہوتے ہی عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کے حوالے سے نہ صرف باتیں کی گئیں بلکہ آئی ایم ایف کو خطوط بھی لکھے گئے، امریکا میں بھی اس حوالے سے مہم چلائی گئی اور کانگریس سمیت مختلف حلقوں میں پاکستان کے دفاعی اداروں کے خلاف لابنگ کی گئی، حتیٰ کہ پابندیوں کی بات بھی کی گئی۔
انصار عباسی نے کہا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے معاملے پر بھی منفی تاثر دینے کی کوشش کی گئی، ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو بیرونی چیلنجز کا سامنا تھا، سوشل میڈیا پر بعض اکاؤنٹس سے فوج کے خلاف تنقید اور پروپیگنڈا کیا گیا۔

انصار عباسی نے کہا کہ حالیہ صورتحال میں جب پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی، تو اس موقع پر بھی بعض حلقے خوشی کا اظہار کرنے کے بجائے تنقید کرتے نظر آئے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے زیادہ تر اکاؤنٹس تحریکِ انصاف کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر نے پاکستان کی خوشی اور غم کو اپنی سیاست سے جوڑ لیا ہے، اور اگر کوئی معاملہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کے مطابق نہ ہو تو وہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، جو کہ ایک افسوسناک رویہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جی ایس پی پلس پر متنازع بیان قومی مفاد کے خلاف ہے، ڈاکٹر پرویز اقبال لوہسر
سینیئر تجزیہ کار حامد حسن نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اپریل 2022 سے شروع ہونے والے بیانیے میں پی ٹی آئی قیادت نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کی حکومت بیرونی مداخلت کے نتیجے میں ختم کی گئی۔ اس مؤقف کو بعض حلقوں نے قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی رنگ دینے سے تعبیر کیا گیا، پھر سائفر بھی لہرایا گیا جس سے پاکستان کو خارجی محاذ پر بڑا نقصان ہوا۔

حامد حسن نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں بھی سوشل میڈیا اور سیاسی بیانات میں حکومت اور ریاستی پالیسیوں پر سخت تنقید دیکھنے میں آئی، پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھارت کی جانب سے ہونے والا پروپیگنڈا پاکستان میں پھیلاتا رہا، پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ایسے مواد کو فروغ دیا جو بھارتی بیانیے سے مماثلت رکھتا تھا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو خطوط لکھنے کا معاملہ خاصی بحث کا باعث بنا۔ حکومتی نمائندگان اور بعض معاشی ماہرین کے مطابق ان خطوط میں پاکستان کی معاشی صورتحال سے متعلق ایسے خدشات ظاہر کیے گئے جن سے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہو سکتے تھے، آئی ایم ایف سے کہا گیا کہ اس حکومت کو قرض نہ دیں ہماری حکومت جب آئے گی تو یہ قرض واپس نہیں دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:قاسم خان کی حکمتِ عملی الٹی پڑ گئی؟
حامد حسن نے کہا کہ افغانستان میں جنگ اور اس کے بعد کی صورتحال پر بھی پی ٹی آئی کا مؤقف دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف رہا، پارٹی کی پالیسی اور بیانات نے پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو پیچیدہ بنایا، پی ٹی آئی نے طالبان کے خلاف سخت ایکشن اور آپریشن کی بھی مخالفت کی، رہنماؤں نے کہا کہ افغانوں کو پاکستان سے بےدخل نہ کیا جائے، ان اقدامات سے پاکستان کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا رہا۔
حامد حسن نے کہا کہ 9 مئی 2023 کے واقعات پاکستان کی حالیہ تاریخ کے اہم اور حساس واقعات میں شمار ہوتے ہیں، جن میں فوجی تنصیبات اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے، اس طرح فوجی تنصیبات پر حملے کر کے دنیا کے سامنے پاکستان کے اعلی عسکری اداروں کو بدنام کیا گیا۔

عمران خان کے بیٹے قاسم خان اور سلیمان نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے اپنے والد کی قید پر تشویش کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، قاسم خان نے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا ہے، جو ملک کی معیشت اور لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کے لیے خطرہ ہے۔ زلفی بخاری سمیت دیگر شرکا اس احتجاجی مؤقف کو نہ صرف دیکھتے بلکہ سنتے رہے، اس سیشن کے ایجنڈے میں پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس شامل تھا، جس میں قاسم اور سلیمان نے شرکت کی۔ اس موقع پر بھارت نواز ڈاکٹر نسیم بلوچ اور عارف آجاکیا بھی خصوصی دعوت پر شریک تھے۔ ان کی تقریروں میں یہ پہلو بھی شامل تھا کہ یہ دونوں رہنما پہلے بھی پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف مہم چلا چکے ہیں۔














