سری لنکا میں جاری ایندھن بحران کے باعث سخت قوانین نافذ ہیں، جہاں غیر قانونی طور پر معمولی مقدار میں پٹرول رکھنے پر بھی شہری کو جیل اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔
سری لنکا کی ایک عدالت نے 48 سالہ شخص کو غیر قانونی طور پر 4 لیٹر پٹرول رکھنے کے جرم میں 21 دن قید اور 1500 روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
ملزم نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پیٹرول گھریلو استعمال کے لیے رکھا گیا تھا، تاہم عدالت نے اسے جرم تسلیم کیا۔
ملزم نے عدالت میں اعتراف کیا
سزا پانے والے شخص کی شناخت بی ایم لاسنتھا کمارا بالاسوریا کے نام سے ہوئی، جسے کوبیگانے پولیس نے نکاوراتیا مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا۔
ملزم نے عدالت میں پیشی کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کیا، جس پر مجسٹریٹ چندنا لیاناجے نے سزا سنائی۔
کس قانون کے تحت کارروائی ہوئی؟
ملزم کے خلاف کارروائی پیٹرولیم مصنوعات (ریگولیشن اینڈ کنٹرول آف سپلائز) ایکٹ 1979 کے تحت کی گئی، جو ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے نافذ ہے۔
سری لنکا میں اس وقت ایندھن کی فراہمی محدود ہے اور شہریوں کو متبادل دنوں میں پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال نے عام زندگی کو متاثر کیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔
عالمی صورتحال کا اثر
28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کا اثر سری لنکا جیسے ممالک پر بھی پڑا ہے، جہاں پہلے ہی ایندھن کا بحران موجود ہے۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ سری لنکا میں ایندھن بحران کس قدر سنگین ہو چکا ہے، جہاں معمولی مقدار میں پٹرول رکھنے پر بھی سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔














