بینک آف امریکا نے ایپسٹین کے متاثرین کے ساتھ کیس میں 72.5 ملین ڈالر کی ادائیگی پر اتفاق کیا ہے تاکہ مقدمہ عدالت میں جانے سے بچایا جا سکے۔
الجزیرہ کے مطابق بینک آف امریکا نے ان خواتین کے کیس میں تصفیہ کر لیا جو الزام لگا رہی تھیں کہ بینک نے جیفری ایپسٹین کے ذریعے ان کے جنسی استحصال میں مدد کی۔
یہ بھی پڑھیں:واشنگٹن میں ٹرمپ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کا متنازع مجسمہ نصب
بینک کے ترجمان نے کہا کہ اگرچہ بینک نے کبھی ایپسٹین کے جرائم میں مدد نہیں کی، تاہم یہ تصفیہ مسئلہ ختم کرنے اور متاثرہ خواتین کو راحت پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
مدعی خواتین کے وکلا نے کہا کہ یہ تصفیہ ان کے کلائنٹس کے لیے بہترین ہے کیونکہ کئی متاثرین کو کئی سال پہلے نقصان پہنچا اور انہیں اب مالی مدد کی ضرورت ہے۔ وکلا تصفیے کی رقم کا تقریباً 30 فیصد قانونی فیس کے طور پر لے سکتے ہیں۔

عدالت کی منظوری کے بعد یہ تصفیہ حتمی ہو گا، اور جج نے اس کے لیے سماعت جمعرات کو مقرر کی ہے۔ مقدمے میں الزام تھا کہ بینک نے ایپسٹین سے متعلق مشکوک مالی لین دین کو نظر انداز کیا اور نفع کو متاثرین کی حفاظت پر ترجیح دی۔ بینک نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین نے اگست 2019 میں نیو یارک کی جیل میں خودکشی کرلی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:کیا سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا؟
یہ تصفیہ جے پی مورگن اور ڈوئچے بینک کے ساتھ کیے گئے سابقہ تصفیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں متاثرہ خواتین کے حق میں بالترتیب 290 ملین اور 75 ملین ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔














