پنجاب میں اپوزیشن لیڈر معین قریشی کی سربراہی میں مفاہمتی گروپ تشکیل؟

اتوار 29 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف جو پنجاب اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے، اس وقت ایوان کے اندر اور باہر دونوں جگہ غیر فعال نظر آ رہی ہے۔ پارٹی کے ایم پی ایز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اندرونی صورتحال سے متعلق انکشافات کیے ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر حافظ فرحت نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے اور پارلیمانی پارٹی کے اندر مفاہمتی گروپ تشکیل دیا ہے۔ جو اس گروپ کا حصہ نہیں ہیں، انہیں بھی ’مفاہمتی اپوزیشن‘ کا کردار ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، کیا پی ٹی آئی پنجاب سے ورکرز نکال پائے گی؟

پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وی نیوز کو بتایا کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کا پنجاب میں بہت برا حال ہے، نہ ایوان کے اندر اپوزیشن ہو پا رہی ہے اور نہ ہی سڑکوں پر کوئی پر اثر احتجاج ہو رہا ہے۔ اس وقت اپوزیشن لیڈر اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے اور ایک مفاہمتی گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک دن اپوزیشن لیڈر نے کچھ ایم پی ایز کو بلایا اور کہا کہ اب سے ایوان کے اندر عمران خان کی تصویر نہیں لے کر جانی ہے، ہم نے مفاہمتی اپوزیشن کا رول ادا کرنا ہے۔ جب کچھ ایم پی ایز نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ ہم اپنے لیڈر کی تصویر ایوان کے اندر نہ لے کر جائیں، تو انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہمارے اوپر مزید مقدمات بنیں گے اور قومی اسمبلی میں بھی تو نام کا احتجاج اور اپوزیشن ہو رہی ہے۔

پنجاب اسمبلی

پی ٹی آئی کے ایم پی اے نے بتایا کہ جب اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر تھے، تو پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کافی ایکٹیو تھی، اسمبلی کے اندر اور باہر احتجاج ہوتے تھے، اپوزیشن بھرپور حکومت کو ٹف ٹائم دے رہی تھی۔ ہمارے لوگوں کی سخت احتجاجوں کی وجہ سے ہمارے اوپر ایوان میں نہ آنے کی پابندیاں لگائی گئیں، مگر پارلیمانی جماعت اکھٹی رہی۔ اب اگر کوئی ایم پی اے ایوان کے اندر حکومت پر تنقید کرتا ہے تو اس جماعت کے اندر لوگ ہی ڈراتے ہیں کہ ایسا نہ کرو، جیسے اپوزیشن لیڈر اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں ویسا کرو۔

یہ بھی پڑھیں:ہر کوئی کہہ رہا ہے میں ہارڈ لائنر ہوں، عالیہ حمزہ چیف آرگنائزر پی ٹی آئی پنجاب

پی ٹی آئی کے ایم پی اے نے بتایا کہ پنجاب میں لوکل گورنمنٹ بل پاس ہوا، اپوزیشن کچھ نہیں کر سکی۔ بھاٹی گیٹ میں گٹر کا ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے ماں اور بیٹی گٹر میں گر کر جان بحق ہوگئیں، اپوزیشن نے ایوان میں کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ اسی طرح جہاز کے معاملے پر بھی اپوزیشن کی پوزیشن واضح نہیں تھی۔

مفاہمتی گروپ کی تشکیل اور اہم ارکان

پی ٹی آئی کے ایم پی اے نے مزید بتایا کہ سابق اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کے نااہل ہونے کے بعد اس وقت پنجاب میں اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر حافظ فرحت کی سربراہی میں ایک مفاہمتی گروپ بن چکا ہے، جس میں ایم پی اے احمر بھٹی، فرخ جاوید مون، میاں ہارون، خالد نثار ڈوگر، حسن بٹر، شکیل وڑائچ اور چند مزید ایم پی ایز شامل ہیں۔

یہ گروپ جب ملک احمد خان بھچر اپوزیشن لیڈر تھے، اس وقت بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا تھا، یہ گروپ اس وقت بھی مفاہمت کا کردار ادا کر رہا تھا اور اب بھی مفاہمت کا کردار ادا کر رہا ہے۔

پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ بھی اس بات سے متفق ہیں کہ ایوان کے اندر اور باہر احتجاج نہیں ہونا چاہیے۔ اس وقت جو اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر حافظ فرحت ہیں، انہیں سلمان اکرم راجہ کی پوری پشت پناہی حاصل ہے۔

عمران خان کی ایوان کے اندر تصویر لے جانے کا معاملہ جب پارٹی لیڈرشپ کے سامنے رکھا گیا، تو سیکریٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر معین قریشی ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کی تصویر ایوان کے اندر نہیں لے کر جانی چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر صرف اڈیالہ جیل جاتے ہیں۔ پچھلے سال پنجاب حکومت کے خلاف واٹ پیپر جاری کیا گیا، مگر اس دفعہ اپوزیشن نے یہ کام بھی نہیں کیا۔

مفاہمتی اور مزاحمتی گروپوں کی تقسیم

اب پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی پنجاب کے اندر 2 گروپ ہیں ایک مفاہمتی گروپ اور ایک مزاحمتی گروپ۔ مزاحمتی گروپ کی تعداد کم ہے اور مفاہمتی گروپ کی تعداد زیادہ ہے۔ جب کسی بھی بات پر رائے شماری ہوتی ہے تو مفاہمتی گروپ کی تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی بات منوا لیتے ہیں کیونکہ مفاہمتی گروپ والے ایم پی ایز کو ڈراتے ہیں کہ اگر ہم نے ایوان کے اندر کسی بھی ایشو پر حکومت پر تنقید یا احتجاج کیا تو ہمارے اوپر اجلاسوں میں نہ آنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے یا مختلف طریقوں سے تنگ کیا جا سکتا ہے، جس پر ایم پی ایز کمپرومائز کر جاتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے ایک اور ایم پی اے نے بتایا کہ علیمہ خان کی پالیسیوں کی وجہ سے بھی پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے۔ عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ علیمہ خان سیاست سے دور رہیں، لیکن وہ پوری پارٹی کے اندر مداخلت کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے پنجاب کے اندر پارٹی فعال نہیں ہو پارہی۔

پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پنجاب میں پارٹی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اگر یہی صورتحال جاری رہی تو اپوزیشن کا کردار نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپ کا اپنا پیمنٹ ماڈل ہونا چاہیے، فرانسیسی صدر میکرون

بال ٹیمپرنگ: پی سی بی نے فخر زمان پر پابندی عائد کر دی

6 سال بعد پی آئی اے کا لندن کا فضائی آپریشن بحال،برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کیا پیغام دیا؟

نیب کی تاریخی ریکوری، اسپیکر قومی اسمبلی کا ادارے کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان

جنوبی لبنان میں لڑائی شدت اختیار کرگئی، 4 اسرائیلی فوجی ہلاک

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا