پاکستان نے بھارت کے شیعہ برادری پر تبصرے کو مسترد کردیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرا بی کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان کی شعیہ کمیونٹی کے بارے میں کی جانے والی ریمارکس کو پاکستان سختی سے مسترد کرتا ہے اور اسے صرف توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملے کے بعد بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ
ترجمان کے مطابق بھارت کے بیانات اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتی کمیونٹیز کے خلاف امتیاز اور تشدد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ان میں عبادت کی آزادی پر پابندیاں، بھیڑ کے ہاتھوں تشدد اور گھروں و روزگار کے نشانے پر رکھنا شامل ہے، ان تمام واقعات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔
طاہر اندرا بی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہجوم کی جانب سے بڑھتے ہوئے تشدد کی لہر انتہائی تشویشناک ہے۔ 2025 میں 55 سے زائد مسلمانوں کو بھیڑ کے ہاتھوں قتل کیا گیا جبکہ 2026 کے آغاز سے اب تک 19 سے زائد مسلمانوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
شدت پسند گروپوں نے 11 مساجد کو غیر قانونی طور پر تباہ کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کے خلاف جرائم کرنے والے اکثر بلاواسطہ ریاستی سرپرستی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور انہیں شاذ و نادر ہی سزا ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے پاسپورٹ سے ’اسرائیل کے لیے ناقابل استعمال‘ کی شق ہٹانے کا بھارتی دعویٰ مسترد کردیا
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی حدود میں موجود ان سنگین مسائل کو حل کرے، مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر کمیونٹیز کی حفاظت یقینی بنائے، اور بین الاقوامی اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق اپنا رویہ درست کرے۔
ساتھ ہی پاکستان نے بھارت سے کہا کہ دوسرے ممالک کے بارے میں بے بنیاد اور سیاسی مقاصد سے متاثر بیانات دینے سے گریز کیا جائے۔
یاد رہے کہ بھارت کی وزارت خارجہ نے پاکستان کے بارے میں میڈیا میں ایک بیان میں بالواسطہ یا بلاواسطہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کی حفاظت کے حوالے سے مسائل موجود ہیں اور بھارت نے اسے ایک قسم کی ’تشویش‘ کے طور پر پیش کیا۔
پاکستان نے اس دعوے کو سیاست سے متاثرہ، بے بنیاد اور توجہ ہٹانے والا اقدام قرار دیا، اور واضح کیا کہ بھارت اپنی اندرونی اقلیتوں، جیسے مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر گروپوں کے خلاف تشدد اور امتیاز کے مسئلے کو چھپانے کے لیے یہ بیان دے رہا ہے۔













