جنیوا کانفرنس: پاکستان اور پاک فوج کے خلاف بھارتی ایجنڈے کو تقویت دینے والا گروپ بے نقاب

ہفتہ 28 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنیوا میں منعقدہ بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس میں شریک مختلف مقررین پر پاکستان، بلوچستان اور پاک فوج کے خلاف منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے کا الزام سامنے آیا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سرگرمیاں بھارتی مفادات کو تقویت دینے کے مترادف ہیں۔

جنیوا میں 27 مارچ 2026 کو ہونے والی گیارہویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی، جن پر پاکستان اور پاک فوج کے حوالے سے منفی اور یکطرفہ بیانیہ پیش کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان نیشنل موومنٹ کے ایک عہدیدار کی جانب سے کانفرنس کے مقررین کے پروفائلز بھی شیئر کیے گئے، جن میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ، سردار اختر مینگل، ڈاکٹر نسیم بلوچ، مرسے مونجے کانو، منظور پشتین، شیر باز خان، اینڈی ورماوٹ، گیری کارٹ رائٹ، آنا لورینا ڈیلگاڈیلو، ڈاکٹر ہدایت بھٹو، ڈاکٹر نصیر دشتی اور ثقلین امام شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان افراد کی جانب سے کانفرنس میں پیش کیے گئے مؤقف میں بلوچستان کے حالات کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کیا گیا اور پاکستان کی ریاستی پالیسیوں اور سیکیورٹی اداروں پر تنقید کی گئی، جس سے عالمی سطح پر منفی تاثر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

ان کے مطابق اس طرح کے بیانات اور سرگرمیاں نہ صرف پاکستان کے داخلی معاملات کو عالمی سطح پر متنازع بنانے کی کوشش ہیں بلکہ یہ بھارتی بیانیے کو بھی تقویت دیتی ہیں، جو طویل عرصے سے بلوچستان کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچ رہنما سردار یار محمد رند نے بی ایل اے کو زیر کرلیا، 5 مغوی بازیاب کرانے میں کامیاب

مزید کہا جا رہا ہے کہ بعض مقررین کا تعلق بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں اور میڈیا سے ہے، جو اپنے پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی مؤقف سامنے آیا ہے کہ ایسے فورمز کو پاکستان کے خلاف سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

حکومتی اور سیکیورٹی حلقوں کے مطابق اس قسم کی کانفرنسز اور بیانات حقائق کے برعکس تاثر پیدا کرتے ہیں اور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں کا مقصد نہ صرف پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرنا ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بڑھانا بھی ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

اسپیکر ایاز صادق کی ہدایت پر پارلیمنٹ ہاؤس میں ارتھ آور کی تقریب، ایک گھنٹے کے لیے لائٹس بند

اپوزیشن اتحاد کا حکومت کو مذاکرات کا گرین سگنل، قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

پاکستان نے بھارت کا فرقہ ورانہ تبصرہ مسترد کردیا

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟