اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ارتھ آور 2026 کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد ماحولیاتی پائیداری کے عزم کا اعادہ کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف زرداری کی ارتھ آور کے موقع پر ایک گھنٹہ روشنیاں بند کرنے کی اپیل
عالمی ارتھ آور مہم کے تحت پارلیمنٹ ہاؤس کی غیر ضروری لائٹس رات 8:30 سے 9:30 بجے تک بند رکھی گئیں۔ اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ارتھ آور محض ایک گھنٹے کی علامت نہیں بلکہ زمین کے تحفظ کے لیے اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں توانائی کے تحفظ کے اقدامات سختی سے نافذ ہیں اور ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی غیر ضروری بتیاں ایک گھنٹے کے لیے بند کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے انفرادی اقدامات اجتماعی سطح پر بڑے اور پائیدار اثرات پیدا کرتے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے باعث مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی سازی اور مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ بروقت اقدامات سے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ اور مستحکم مستقبل یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فضائی آلودگی میں کمی اور مضر گیسوں کے اخراج کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ قدرتی وسائل کا پائیدار استعمال اور ماحول دوست رویوں کا فروغ ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ماحولیاتی تحفظ معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور روزمرہ زندگی میں ماحول دوست طرزِ عمل اپنانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ارتھ آور : زمین کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، شہباز شریف
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ماحول کے تحفظ سے ایک سبز، صاف اور خوشحال پاکستان کا خواب حقیقت بن سکتا ہے اور قوم ارتھ آور کو صرف علامتی سرگرمی کے بجائے مستقل ذمہ داری کے طور پر اپنائے۔
انہوں نے اس موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ماحولیاتی آگاہی مہم کو بھی سراہا۔












