ایران جنگ کے پس منظر میں خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد میں اہم چہار فریقی اجلاس میں شریک ہوں گے، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور ایران کے حوالے سے جاری مذاکرات پر تفصیلی مشاورت ہوگی۔
اجلاس کی تیاری اور مہمانوں کا استقبال
اجلاس میں شرکت کے لیے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی آج پاکستان پہنچ گئے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایڈیشنل فارن سیکرٹری سید احمد معروف نے ان کا استقبال کیا۔
Looking forward to welcoming my brother Foreign Ministers of Saudi Arabia, Türkiye, and Egypt to Islamabad.@FaisalbinFarhan @HakanFidan @mfaEgypt pic.twitter.com/3LLsJyUobv
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) March 28, 2026
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان بھی اسلام آباد پہنچ گئے اور وہ چہار فریقی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ پاکستان آمد پر ایڈیشنل فارن سیکرٹری افغانستان اور مغربی ایشیا سید علی اسد گیلانی نے ان کا استقبال کیا۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ کل صبح پاکستان پہنچیں گے۔ دورہ پاکستان کے دوران تینوں وزرائے خارجہ کی آپس میں اہم ملاقاتیں بھی ہوں گی اور نائب وزیراعظم کی جانب سے ظہرانہ بھی دیا جائے گا۔
پس منظر اور دوطرفہ مذاکرات
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے اور اگلے روز یہ وزرائے خارجہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کل پاکستان پہنچیں گے اور ان کے ساتھ الگ الگ دوطرفہ مذاکرات بھی ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران، امریکا اور اسرائیل کشیدگی، آسیان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اصل ملاقات ترکیہ میں طے تھی، تاہم مصروفیات کی وجہ سے یہ اسلام آباد میں رکھی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ تنازعات کے حل کی کوشش کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دوست ممالک تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
ایران مذاکرات اور پاکستان کا ثالثی کردار
اسحاق ڈار نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر میڈیا کے سامنے زیادہ بات کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں امریکا نے جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی فارمولا پاکستان کے ذریعے ایران کو پیش کیا، جس کی تصدیق ایران نے کی اور پھر اپنا جواب بھی پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا گیا۔

پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ اجلاس میں اہم علاقائی امور زیر غور آئیں گے اور خطے میں موجود کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم اور ایرانی صدر کا اہم ٹیلیفونک رابطہ
قبل گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک گھنٹے سے زائد ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور امن کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ مرحومین کے لیے دعائیں کی گئیں اور زخمیوں کی صحتیابی کی خواہش ظاہر کی گئی۔
امن مذاکرات اور سفارتی کوششیں
وزیراعظم نے ایران کو اپنی اور دیگر پاکستانی رہنماؤں کی جانب سے امریکا، خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری امن مذاکرات کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ایرانی صدر نے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی اور امید ظاہر کی کہ اجتماعی اقدامات سے کشیدگی ختم ہوگی۔
دونوں رہنماؤں نے مذاکرات میں اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
پاکستان کے فعال تعلقات: قطر اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ سے رابطے
سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے قطر اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں علاقائی اور عالمی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور امن و استحکام پر تبادلہ خیال ہوا۔

قطر سے بات چیت
ڈپٹی وزیراعظم نے قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں پر بات کی۔ قطر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔
انڈونیشیا سے رابطہ
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو سے گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، مشترکہ مفاد اور مستقبل میں قریبی رابطوں پر اتفاق ہوا۔
یہ رابطے پاکستان کی فعال خارجہ پالیسی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں ملک کے اہم کردار کو واضح کرتے ہیں۔














