جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک مشترکہ اعلامیے وزرائے خارجہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کریں۔
یہ بھی پڑھیں: خلیج تعاون کونسل اور آسیان نے 1967 والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر دیا
اعلامیے کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کیے گئے حملوں اور اس کے بعد ایران کی جانب سے خطے کے متعدد ممالک پر کی جانے والی جوابی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کو مسلسل بڑھا رہی ہیں اور شہریوں کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بننے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے بھی شدید خدشات پیدا کر رہی ہیں۔
BASAHIN | Pahayag ng ASEAN Foreign Ministers sa nangyayari ngayong tensyon sa Gitnang Silangan.
Panawagan ng mga ito, igalang ang International Law kabilang ang UN Charter at lutasin ang alitan sa pamamagitan ng diplomasya at dayalogo. | via Merry Ann Bastasa#RadyoPilipinas… pic.twitter.com/V4n2qgCn0I
— Radyo Pilipinas (@radyopilipinas1) March 4, 2026
’ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون، بشمول اقوام متحدہ کے چارٹر، کا احترام کریں۔‘
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اس کشیدگی کو اس لیے بھی افسوسناک قرار دیا کہ یہ ایسے وقت میں سامنے آئی جب سفارتی کوششیں جاری تھیں، جن میں عمان کی قیادت میں ثالثی اقدامات بھی شامل تھے، جن کا مقصد بحران کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان آسیان کے وژن کی حمایت میں ثابت قدم ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
بیان میں مزید کہا گیا کہ مسلح تنازعات کے دوران شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی پاسداری کی ذمہ داری کو دہرایا جاتا ہے۔
وزرا نے فوری جنگ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ فریق زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں، اور اختلافات کو سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے حل کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
مزید پڑھیں: خلیج تعاون کونسل کا غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ
خطے میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب امریکا اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن میں تقریباً 800 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اعلیٰ فوجی حکام بھی شامل تھے۔
ایران نے اس کے جواب میں ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن کا ہدف اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک بھی تھے، جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کویت میں ایک ٹیکٹیکل آپریشنز سینٹر پر ایرانی حملے کے دوران 6 امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔














