عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت، خصوصاً بینائی سے متعلق گزشتہ چند روز سے گردش کرنے والی خبروں کے برعکس تازہ میڈیکل رپورٹ نے صورتِ حال کو واضح کر دیا ہے، جس کے مطابق ان کی آنکھوں میں کسی قسم کی سنگین خرابی یا بینائی کے نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے بشریٰ بی بی بی کی ملاقات کرا دی گئی، صحت اور زیرسماعت مقدمات پر تبادلہ خیال
پمز (PIMS) اسپتال کے ماہر ڈاکٹروں کی جانب سے 28 مارچ 2026 کو کیے گئے طبی معائنے میں بشریٰ بی بی کی مجموعی حالت کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نہ تو بینائی میں کمی پائی گئی اور نہ ہی کوئی تشویشناک طبی مسئلہ سامنے آیا، البتہ معمولی نوعیت کی علامات کے پیش نظر انہیں چند ہفتوں کیلئے آنکھوں کے قطرے استعمال کرنے اور فالو اپ کا مشورہ دیا گیا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ان رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کو جیل میں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں اور ان کی بینائی متاثر ہو رہی ہے۔ پارٹی نے اسے انسانی حقوق کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید بھی کی۔
تاہم دستیاب میڈیکل شواہد اور ڈاکٹروں کی رپورٹ پی ٹی آئی کے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔ جبکہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ معمولی نوعیت کے طبی مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جو سیاسی بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان صحت مند ہیں، اڈیالہ جیل میں معائنے کی رپورٹ جاری
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نہ صرف بشریٰ بی بی بلکہ عمران خان کی صحت سے متعلق بھی ماضی میں اسی نوعیت کی خبروں کو غیر معمولی انداز میں پیش کیا گیا، جسے مخالفین ’منفی پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں بشریٰ بی بی کی صحت خطرے سے باہر ہے اور انہیں معمول کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی کئی خبروں کو حقائق کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے۔














