وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مراکش کشتی حادثے میں مبینہ طور پر ملوث ریڈ بک میں شامل ایک انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر کو گوجرانوالا سے گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے گوجرانوالا زون کے مطابق گرفتار ملزم قاصد علی کا نام ریڈ بک میں شامل تھا اور وہ بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا اہم کارندہ سمجھا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف انسانی اسمگلنگ سمیت متعدد مقدمات درج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مراکش کشتی حادثہ: مسافر کیسے مرے، آنکھوں دیکھا حال
تحقیقات کے مطابق ملزم شہریوں کو یورپ بھجوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کرتا اور انہیں غیر قانونی راستوں سے افریقی ممالک منتقل کرتا تھا۔ متاثرہ خاندانوں سے اسپین بھجوانے کے نام پر فی کس 33 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔
حکام کے مطابق نیٹ ورک نے نوجوانوں کو موریطانیہ منتقل کرنے کے بعد انہیں تشدد، جبری مشقت اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں سمندر کے راستے اسپین بھیجنے کا کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا گیا، جبکہ کشتی حادثے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مراکش کشتی حادثہ: 13 پاکستانیوں کی لاشوں کی شناخت، 4 کل اسلام آباد پہنچیں گی
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم پر انسانی اسمگلنگ، بھتہ خوری، جبری مشقت، فراڈ اور تارکین وطن کی اموات کا سبب بننے جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ حکام کے مطابق وہ ایک منظم بین الاقوامی گینگ کا اہم رکن تھا جو شہریوں کو دھوکہ دے کر غیر قانونی ہجرت پر آمادہ کرتا تھا۔













