پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی پر قومی کرکٹر نسیم شاہ پر 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
کئی صارفین اس فیصلے پر تنقید کرتے نظر آئے، ثاقب شاہ نے کہا کہ نسیم شاہ کے لیے واقعی برا محسوس ہوتا ہے۔ شاید اسے کسی ایسی چیز کا خمیازہ بھگتنا پڑا جو اس نے حقیقت میں نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: متنازع ٹوئٹ: نسیم شاہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ’غلط استعمال‘ پر معافی مانگ لی
ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ ان کا سوشل میڈیا ہینڈلر غلطی سے یہ پوسٹ کر گیا، یہ سوچ کر کہ وہ اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں لاگ ان ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹویٹر وہ سب کچھ لکھ سکتا ہے جو اسے ناپسند ہو۔ پھر اسے سیاسی رنگ دینا کیوں ضروری سمجھا گیا؟ ظاہر ہے ہماری حکومت واقعی مالی مسائل کا شکار ہے۔
Feel bad for Naseem Shah. He probably had to pay for something he didn't even do. What I assume is that his social media handler posted it by mistake, thinking they were logged into their personal account.
Regardless, even if Naseem tweeted this, isn't his Twitter his personal…
— Saqib Shah (@Saqibca) March 30, 2026
ریما عمر نے کہا کہ ایک ٹویٹ پر 2 کروڑ روپے کا جرمانہ، جس کے لیے نسیم شاہ نے غیر مشروط معافی مانگی (چاہے ہم اکاؤنٹ ہیک ہونے کی کہانی پر یقین نہ بھی کریں)۔ پی سی بی کو چاہیے کہ اس ظالمانہ، غیر منصفانہ اور حد سے زیادہ جرمانے پر نظر ثانی کرے اور آمرانہ انداز اختیار کرنا بند کرے۔
ایک ٹویٹ پر 2 کروڑ روپے کا جرمانہ، جس کے لیے نسیم شاہ نے غیر مشروط معافی مانگی (چاہے ہم اکاؤنٹ ہیک ہونے کی کہانی پر یقین نہ بھی کریں)۔ پی سی بی کو چاہیے کہ اس ظالمانہ، غیر منصفانہ اور حد سے زیادہ جرمانے پر نظر ثانی کرے اور آمرانہ انداز اختیار کرنا بند کرے، ریما عمر pic.twitter.com/a0bOFWk6TK
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) March 31, 2026
فیضان احمد نے کہا کہ 2008 میں پی سی بی نے شعیب اختر پر بورڈ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے الزام میں 70 لاکھ روپے (اس وقت تقریباً 83,000 امریکی ڈالر) جرمانہ عائد کیا جو ان کی کل آمدنی سے کٹوتی کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں شعیب اختر نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا اور 2015 میں عدالت نے یہ حکم کالعدم قرار دے دیا۔ اس کے بعد پی سی بی نے جرمانے کی رقم ان کے اکاؤنٹ میں واپس کر دی۔
In 2008, the PCB imposed a fine of PKR 7 million (approximately $83,000 at the time) on Shoaib Akhtar for criticizing the board’s policies. The amount was deducted from his total earnings. He later challenged the decision in court, and in 2015, the court set aside the verdict.… https://t.co/DClxwrwyCq
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) March 31, 2026
ثاقب بشیر نے لکھا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر اتنا بڑا جرمانہ ؟ کبھی اپنے کوڈ آف کنڈکٹ کو بھی دیکھا صاحب لوگوں نے ؟
بادشاہ سلامت ماحول چل رہا ہے ۔۔۔ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر اتنا بڑا جرمانہ ؟؟؟ کبھی اپنے کوڈ آف کنڈکٹ کو بھی دیکھا صاحب لوگوں نے ؟؟ https://t.co/uCRYI3uDT7
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) March 30, 2026
فاطمہ نامی صارف نے کہا کہ کیا نسیم شاہ کو 2 کروڑ کا جرمانہ ادا کر دینا چاہیے یا عدالت جانا چاہیے؟
کیا نسیم شاہ کو 2 کروڑ کا جرمانہ ادا کر دینا چاہیے یا عدالت جانا چاہیے ؟؟؟
اپنی رائے دیں pic.twitter.com/8qTbyOE4Kh
— Fatima PTI (@FatimaPTI_IK) March 30, 2026
معروف کرکٹر باسط علی نے انکشاف کیا کہ کرکٹر نسیم شاہ پر 2 سال کی پابندی لگنے والی تھی لیکن چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے مداخلت کرتے ہوئے پابندی کی بجائے جرمانہ کرنے کا مشورہ دیا جس پر کمیٹی نے 2کروڑ روپے جرمانہ کردیا۔
واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز قذافی اسٹیڈیم آئیں۔ اس موقع پر نسیم شاہ کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ کی گئی تھی جس میں لکھا گیا کہ ’انہیں ملکہ کی طرح کیوں پروٹوکول دیا جارہا ہے‘؟ تاہم بعد ازاں ٹوئٹ ڈیلیٹ کرکے کہا گیا کہ نسیم شاہ کا ایکس اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے خلاف ٹوئٹ، قومی کرکٹر نسیم شاہ پر 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد
پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، کمیٹی نے نسیم شاہ کے مؤقف کا بغور جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا کہ غیر مشروط معافی کے باوجود وہ سینٹرل کنٹریکٹ کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں اور ان پر 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
بعد ازاں نسیم شاہ نے سوشل میڈیا پر متنازع ٹوئٹ کے معاملے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ متنازع پوسٹ ان کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے شیئر کی گئی تھی اور وہ ان کے ذاتی خیالات کی عکاسی نہیں کرتی۔
قومی کھلاڑی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے غلط استعمال پر معافی مانگتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات اور تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔













