سپریم کورٹ کی شاندار تزئین و آرائش، جس پر 20 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے، موسم کی پہلی تیز بارش نے اس کی خامیاں عیاں کر دیں۔ اسلام آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد سپریم کورٹ کی چھتوں سےپانی ٹپکنے لگا۔
صحافی عبدالقیوم صدیقی نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ صحافیوں کے لیے بنائے گئے کمرے میں بارش کا پانی داخل ہو گیا جس نے ایک مہنگے منصوبے کی ناکامی کو عیاں کر دیا اور عوامی رقم کے استعمال پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں یکم تا 4 اپریل بارشوں اور تیز ہواؤں کا امکان
انہوں نے سوال کیا کہ کیا چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کسی ذمہ دار کو بلا کر اس عوامی رقم کا حساب لیں گے۔
حال ہی میں سپریم کورٹ میں تزئین و آرائش کا کام مکمل ہوا ایک ذریعہ کے مطابق 20کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے لیکن موسم کی پہلی تیز بارش نے ساری قلعی کھول دی کیا چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کسی ذمہ دار کو بلا کر اس عوامی رقم کا حساب لیں گے یہ منظر صحافیوں کے لیے بنائی گئی جگہ… pic.twitter.com/6y6o9Rp29M
— Abdul Qayyum Siddiqui (@QayyumReports) March 30, 2026
زاہد گشکوری نے لکھا کہ یہی حال تقریبا سب اہم سرکاری عمارتوں کا دیکھنے میں آیا ہے۔
یہی حال تقریبا سب اہم سرکاری عمارتوں کا دیکھنے میں آیا ہے https://t.co/OkJqqhM6hl
— Zahid Gishkori (@ZahidGishkori) March 30, 2026
اس کے علاوہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کی چھتوں سے بھی پانی ٹپکنے لگا تھا جس پر انتظامیہ نے ٹپکتی چھتوں کے نیچے بالٹیاں رکھ دی تھیں۔














