پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اس وقت حکومت یا اسٹیبلشمنٹ میں سے کسی کے ساتھ بھی مذاکرات نہیں ہورہے۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیاسی مسائل کا سیاسی حل ڈھونڈنا چاہیے، مذاکرات نیک نیتی اور کھلے دل کے ساتھ ہونے چاہییں۔
مذاکرات ہونے چاہیے لیکن اس وقت حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، بیرسٹر گوہر pic.twitter.com/EoVB1z5ejQ
— WE News (@WENewsPk) March 31, 2026
انہوں نے کہاکہ بعض لوگوں کی طرف سے کچھ رکاوٹیں ضرور ہیں جس کی وجہ سے مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکا۔
دریں اثنا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جانا چاہیے اور سب سے پہلے پاکستان ہے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کے بچوں نے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی پارٹی ایسا کرے گی، تاہم ان کے بیانات کو بلاجواز متنازع بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈالنے والے عوامی جذبات کا خیال نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق پہلے عمران خان کی ملاقاتیں محدود کی گئیں، پھر بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں بھی بند کر دی گئیں۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے کے باوجود نہ ملاقات کروائی گئی اور نہ ہی بچوں سے بات کرنے دی گئی، جبکہ بشریٰ بی بی کی بینائی سے متعلق مسئلہ سامنے آنے کے باوجود گزشتہ 4 ہفتوں سے ان کی فیملی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔ پی ٹی آئی ملک میں کشیدگی یا انتشار نہیں چاہتی۔
انہوں نے کہاکہ محمود اچکزئی آج واپس آ رہے ہیں اور کل پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ ساتھ پارلیمانی پارٹی کا طویل اجلاس ہوگا، جس میں اہم امور پر غور کیا جائے گا۔
ان کے مطابق عمران خان نے کچھ اختیارات محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دے رکھے ہیں، جبکہ پارٹی سیاسی مسائل کے حل کی خواہاں ہے لیکن کچھ عناصر ایسا نہیں چاہتے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ 14 ماہ گزرنے کے باوجود عمران خان کی سزاؤں کی معطلی پر فیصلہ نہیں ہو سکا، عدالت نے اب مرکزی اپیلوں پر فیصلہ کرنے کی بات کی ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج پر بھی تقسیم، فیملی اور مختلف رہنماؤں کی الگ الگ ٹولیاں
انہوں نے کہاکہ انصاف کے دروازے بند کر کے عوام کو سڑکوں پر آنے سے بھی روکا جا رہا ہے، تاہم عوامی جذبات کو زیادہ دیر دبایا نہیں جا سکتا اور عوام کی بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ عمران خان کو سیاسی بنیادوں پر قید رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ 2025 کے بعد پاکستان نے اہم کامیابیاں حاصل کیں جن میں پی ٹی آئی نے بھی کردار ادا کیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا اور پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ جنگ جلد ختم ہو۔













