پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، کارکنان اور عمران خان کی بہنیں ہر منگل اور جمعرات کے روز عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل کا رخ کرتے ہیں، منگل کو فیملی جبکہ جمعرات کو سیاسی ملاقاتوں کا دن ہوتا ہے۔ ملاقات نہ ہونے کے باعث عمران خان کی بہنیں، پارٹی رہنما اور کارکنان اڈیالہ جیل کے قریب احتجاج کرتے ہیں۔
اڈیالہ جیل کے قریب موجود رہنماؤں اور کارکنان کا احتجاج کافی مختلف ہوتا ہے۔ عام طور پر تو احتجاج ایک ہی جگہ جمع ہو کر کیے جاتے ہیں لیکن اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج مختلف مقامات پر ہو رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما و کارکنان اڈیالہ جیل کے اطراف میں مختلف ٹولیوں میں بیٹھ کر احتجاج کرتے ہیں، رہنما آتے ہیں تصویریں بناتے ہیں اور پھر روانہ ہو جاتے ہیں، مزید بتارہے ہیں بلال عباسی pic.twitter.com/vLcSFSKsyy
— WE News (@WENewsPk) March 31, 2026
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے باہر ڈراما لگاتی ہے، باز نہ آنے پر حل نکالنا ہوگا، رانا ثنااللہ
آج چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اڈیالہ جیل کی دوسری طرف موجود چوکی پر آئے، میڈیا سے گفتگو کی اور پھر وہاں سے روانہ ہو گئے جبکہ پارٹی کی دیگر قیادت، کارکنان اور عمران خان کی بہنیں گورکھپور والی سائیڈ پر موجود پولیس چیک پوسٹ پر موجود رہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا عمران خان کے بہنوں سے قریباً 200 میٹر دور موجود ایک چائے کے ڈھابے پر بیٹھے رہے، جہاں پر پارٹی کارکنان نے ان سے ملاقاتیں بھی کیں۔
اسی طرح مختلف علاقوں سے آئے ایم این ایز اپنے ہمراہ چند افراد کو لے کر پولیس چوکی کے قریب آتے ہیں، کچھ لمحوں کے لیے نعرے بازی کی، ویڈیوز بنائیں اور پھر وہاں سے چلے گئے۔
عمران خان کی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر گورکھ پور والے ناکے کے بالکل ساتھ چٹائی پر بیٹھی رہیں، ان کے ساتھ خواتین کا ایک بڑا مجمع چائے کے ڈھابے پر بیٹھا رہا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) صوبہ خیبرپختونخوا کی کابینہ کے رہنما شفیع جان اور مینا خان آفریدی بھی اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم وہ اور ان کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے بہنوں کے ہمراہ احتجاج کے بجائے قریب موجود ہوٹل میں وقت گزارا اور وہیں پر اپنی میٹنگ کرتے رہے، اس دوران کسی کو بھی ان کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔
مزید پڑھیں: اڈیالہ جیل سے کوٹ لکھپت تک کا سفر، پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے کیا نئی حکمت عملی اپنا رہی ہے؟
اس دوران پی ٹی آئی کارکنان اور وکلا کی بھی ایک بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی، تاہم یہ تمام لوگ مختلف ٹولیوں پر جگہ جگہ بیٹھے رہے۔ کچھ لمحوں کے لیے نعرے بازی کرتے اور پھر وہاں سے روانہ ہو جاتے۔
کارکنان اور دیگر لوگوں کے لیے مختلف اوقات میں کھانا آتا رہا، اور وہ اس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔














