ملک بھر میں بجلی صارفین کو اپریل کے بلوں میں مجموعی طور پر 14.37 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل گرڈ کی پرچیزنگ ایجنسی نے اعتراف کیا ہے کہ فروری کے دوران گھریلو اور صنعتی صارفین سے ایندھن کی اصل قیمت کے مقابلے میں کم وصولی کی گئی، جس کے باعث اب اس فرق کو پورا کرنے کے لیے ایڈجسٹمنٹ کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ: بجلی چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائیاں، اعداد و شمار جاری
سرکاری دستاویزات کے مطابق فروری کے بل 6.73 روپے فی یونٹ کی حوالہ جاتی ایندھن قیمت کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے، جبکہ اصل پیداواری لاگت 8.37 روپے فی یونٹ رہی۔ اس طرح فی یونٹ 1.64 روپے کا فرق یا شارٹ فال سامنے آیا۔
اس شارٹ فال کو فروری میں استعمال ہونے والے تقریباً 7.43 ارب یونٹس سے ضرب دینے پر 12.18 ارب روپے کی بنیادی ایڈجسٹمنٹ بنتی ہے، جو بعد میں جنرل سیلز ٹیکس شامل ہونے کے بعد بڑھ کر 14.37 ارب روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لگژری گاڑیوں کے ہائی آکٹین فیول پر لیوی میں بڑا اضافہ، امیر طبقہ اضافی بوجھ اٹھائے گا، وزیراعظم
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایڈجسٹمنٹ اپریل کے بلوں میں شامل کی جائے گی، جس سے ملک بھر کے صارفین پر اضافی مالی دباؤ پڑے گا۔ نیپرا اس معاملے پر مزید کارروائی کر رہا ہے تاکہ قیمتوں کے فرق کو باقاعدہ طور پر ایڈجسٹ کیا جا سکے۔














